نیوز ڈیسک (ایم این این) — اسرائیل نے ایران میں اہم جوہری تنصیبات اور بڑے اسٹیل پلانٹس کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد تہران نے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، کیونکہ ان حملوں میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خنداب ہیوی واٹر پلانٹ، اردکان یلو کیک پلانٹ اور خوزستان و مبارکہ کے بڑے اسٹیل کارخانے حملوں کا ہدف بنے۔ یہ حملے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفارتی کوششوں کے تحت مہلت دینے کے اعلان کے باوجود کیے گئے۔
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے مطابق بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب ایک میزائل گرا تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ایران نے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
دوسری جانب تل ابیب میں ایرانی حملوں کے ملبے سے کئی مقامات پر عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سفارتی سطح پر اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ترکیہ اور مصر بھی اس عمل میں شامل ہیں۔
یمن کے حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا ہے کہ مخصوص حالات میں وہ براہ راست جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں، جن میں مزید ممالک کی شمولیت، بحیرہ احمر کا استعمال یا ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ میں شدت شامل ہے۔
ادھر صوبہ اصفہان میں حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں 25 افراد ہلاک ہوئے جبکہ بجلی گھروں اور صنعتی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی حملوں کو مذاکرات کے ساتھ ساتھ “ناقابل برداشت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنے ردعمل کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔


