پیرس (ایم این این) – جی سیون ممالک کے وزرائے خزانہ اور معیشت نے پیر کے روز عالمی توانائی منڈی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات پر غور کیا گیا۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو بڑی حد تک متاثر کیا۔
توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی صنعتوں اور سپلائی چینز پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں جی سیون کے وزرائے خزانہ، توانائی حکام اور مرکزی بینکوں کے سربراہان نے کہا کہ وہ توانائی منڈی کے استحکام اور عالمی معیشت کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون سے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مربوط اقدامات کے ذریعے معاشی اثرات کو کم کرنا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
جی سیون ممالک نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ تیل اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات پر بلاجواز پابندیاں عائد کرنے سے گریز کریں۔
جی سیون میں امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں، جبکہ اس وقت فرانس اس کا سربراہ ہے۔
فرانس کے وزیر خزانہ رولان لیسکیور نے کہا کہ خلیجی صورتحال کے توانائی، معیشت، مالیاتی منڈیوں اور مہنگائی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے فوری اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
امریکا نے جی سیون ممالک سے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے حمایت مانگی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کی جا سکے۔ اس سے قبل جی سیون وزرائے خارجہ نے بھی اسے ناگزیر قرار دیتے ہوئے شہری تنصیبات پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دنیا بھر کی حکومتیں بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ فرانس نے ماہی گیری، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے لیے ستر ملین یورو امداد کا اعلان کیا ہے۔
رولان لیسکیور نے کہا کہ امدادی اقدامات فوری اور ہدفی ہونے چاہئیں کیونکہ یہ بحران قومی معیشتوں پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔
امریکی حکام، بشمول صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کا کہنا ہے کہ جنگ میں ان کے مقاصد تقریباً حاصل ہو چکے ہیں، تاہم خطے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔
کارکنوں کے مطابق ایران میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ شہری ہیں، جبکہ لبنان میں بھی ایک ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں نسبتاً کم جانی نقصان ہوا ہے۔


