واشنگٹن (ایم این این) – امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں شدت کے دوران اتحادی ممالک پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “اپنا تیل خود حاصل کرنے” کا مشورہ دیا، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکا نے ایران کے شہر اصفہان پر حملہ کیا اور ایران نے خلیج فارس میں ایک کویتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ ایک ماہ سے زائد عرصے پر محیط اس جنگ میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی تیل و گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً ایک سو سات ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور فرانس سمیت اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک جنگ میں حصہ نہیں لے رہے، انہیں امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
یورپ میں بھی اس حوالے سے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ فرانس نے اپنی حدود کے استعمال پر پابندیاں عائد کیں، اسپین نے امریکی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کر دی، جبکہ اٹلی نے ایک اہم فضائی اڈے کے استعمال سے انکار کیا، تاہم بعد میں تعاون جاری رکھنے کی وضاحت کی گئی۔
دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرتے ہوئے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر دیا ہے، جو یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہو گیا ہے، جبکہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ مرمت کے مراحل میں ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو امریکا اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے، جس میں ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکا مزید فوجی کارروائی سے گریز کرنا چاہتا ہے، تاہم تمام آپشنز کھلے ہیں۔
یہ تنازع خطے بھر میں پھیل چکا ہے، جہاں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حملے، خلیجی ممالک میں ڈرون اور میزائل حملے، اور مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔
اب تک ایران، اسرائیل، لبنان اور دیگر علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔


