ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی امریکی ٹیک کمپنیوں کو سخت دھمکی، جوابی کارروائی کا اعلان

0
1

تہران (ایم این این) – ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی رہنماؤں کو مزید “ہدفی قتل” کا نشانہ بنایا گیا تو امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں ایپل، گوگل اور میٹا شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اٹھارہ کمپنیوں کو ایرانی حکام کے خلاف کارروائیوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے اور ان کے خلاف یکم اپریل سے جوابی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ دیگر کمپنیوں میں مائیکروسافٹ، انٹیل، اوریکل، ٹیسلا، پالینٹیر اور اینویڈیا بھی شامل ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے ان کمپنیوں کے ملازمین کو فوری طور پر اپنے دفاتر چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایسی کمپنیوں کو ہر ہدفی حملے کے بدلے جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کمپنیوں کے اطراف رہنے والے افراد احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک جانب سفارتی کوششوں کی بات کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مزید کارروائیوں کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔

ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا، جن میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل میں مواصلاتی اور صنعتی مراکز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جن میں سیمنز اور اے ٹی اینڈ ٹی سے منسلک تنصیبات شامل ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اس سے قبل خلیجی خطے میں ایمیزون سے متعلق تنصیبات پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ماہرین کے مطابق قیادت کو نقصان پہنچنے کے باوجود ایران اب بھی اس تنازع میں اپنی صلاحیت اور مزاحمت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں