اسلام آباد (ایم این این): ترکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی کے درمیان ہونے والے اہم اجلاس میں ایران۔امریکا جنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک ممکنہ علاقائی “سکیورٹی کوارٹیٹ” کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔
ترک میڈیا کے مطابق اس مجوزہ اتحاد کا مقصد خطے کے ممالک کو اپنی سکیورٹی کے لیے خود اقدامات کرنے کے قابل بنانا ہے، کیونکہ ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ مغربی طاقتیں زیادہ تر اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی اس پیش رفت کو خطے میں ایک نئے اسٹریٹجک توازن کی کوشش قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کو بظاہر ایران جنگ میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا۔ تاہم رپورٹس کے مطابق اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ سفارتی حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی بات کی، جسے امریکا اور ایران کے سامنے مذاکرات کے ابتدائی خاکے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام نہ صرف جنگ میں مزید شدت کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ان ممالک کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کے ضامن کے طور پر بھی سامنے لا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماضی کی ایران کے خلاف اختیار کی گئی پالیسیوں کے ناکام تجربات سے سیکھنے پر بھی غور کیا گیا۔
رپورٹس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عمان جیسے اہم خلیجی ممالک اس اجلاس میں شریک نہیں تھے، جس سے خلیجی اتحاد میں اختلافات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اماراتی حلقوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں مستقبل میں حملوں کی روک تھام کی واضح ضمانت شامل ہونی چاہیے۔
اجلاس میں شریک ممالک کی جغرافیائی و سیاسی حیثیت بھی اہم قرار دی گئی۔ مصر اور امارات اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ ترکی ایک نیٹو رکن ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جبکہ ایران کے ساتھ سرحدی اور سکیورٹی معاملات بھی موجود ہیں۔
ترک میڈیا نے ترکی کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں، خاص طور پر ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی، کو اس ممکنہ اتحاد میں اہم قرار دیا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی طاقت اور جوہری صلاحیت کو بھی ایک کلیدی عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کو اس ممکنہ اتحاد میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ مصر اپنی بڑی فوجی طاقت کے باعث اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں روایتی اتحادوں سے ہٹ کر ایک نئی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں عرب اور غیر عرب ممالک مشترکہ سکیورٹی کے لیے نئے اتحاد تشکیل دے سکتے ہیں۔
اگرچہ ابھی تک کسی باضابطہ سکیورٹی اتحاد کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم یہ بات واضح ہے کہ ایران جنگ کے تناظر میں خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔


