تہران میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر کی نماز جنازہ، ہزاروں افراد کی شرکت، مزاحمت جاری رکھنے کا عزم

0
2

تہران (ایم این این): ایران کے دارالحکومت تہران میں بدھ کے روز پاسداران انقلاب کے بحری کمانڈر کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ شرکاء نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ جنازہ یکم اپریل انیس سو اناسی کو قائم ہونے والی اسلامی جمہوریہ ایران کی سینتالیسویں سالگرہ کے موقع پر ادا کیا گیا، جو ایرانی انقلاب کے بعد صدیوں پر محیط بادشاہت کے خاتمے کے بعد وجود میں آئی تھی۔ تاہم اس سال یہ دن اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا کیونکہ ایران فروری کے آخر سے مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔

انقلاب اسکوائر میں بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے، جنہوں نے قومی پرچم لہرائے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حق میں نعرے لگائے۔ کئی افراد اپنے ان عزیزوں کی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے جو حالیہ جھڑپوں میں جان سے گئے۔

پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر علی رضا تنگسیری کا تابوت ہجوم کے درمیان سے گزارا گیا۔ انہیں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کی حکمت عملی کا اہم معمار سمجھا جاتا تھا۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر صورت مزاحمت جاری رکھیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی مسترد کر دیا گیا، جسے ایرانی حکام پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے تک حملے جاری رہیں گے۔

جنازے میں شریک افراد نے ان بیانات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے اپنی قیادت کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ اگرچہ کچھ حلقوں میں سیاسی تبدیلی کی خواہش موجود ہے، تاہم اس موقع پر عوامی سطح پر اتحاد اور مزاحمت کا پیغام نمایاں رہا۔

حالیہ حملوں میں کئی اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کے باوجود ایران کا حکومتی نظام برقرار ہے اور ملک اپنی دفاعی صلاحیت بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں