آبنائے ہرمز کا بحران شدت اختیار کر گیا، عالمی طاقتوں کا فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور

0
2

دبئی (ایم این این) – مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اور علاقائی ممالک فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے جنگ کے فوری خاتمے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کریملن کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ تنازع کا دیرپا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی دراصل ایران سے متعلق جاری جنگ کا پھیلاؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک خطے میں لڑائی جاری رہے گی، اس اہم بحری راستے میں استحکام ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے گفتگو میں فوری جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یورپی ممالک نے اس بحران کے انسانی پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا رکاوٹ ترسیل کے لیے فوری طور پر ایک انسانی راہداری قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو افریقی ممالک کو شدید غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

فرانس نے اعلان کیا ہے کہ گروپ آف سیون اور خلیجی تعاون کونسل کے درمیان آئندہ ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور اس سے جڑے خطرات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

جرمنی اور چین نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عالمی بحری راستوں پر کسی ایک ملک کی اجارہ داری قابل قبول نہیں۔ جرمن وزارت خارجہ کے مطابق کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سمندری گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرے یا وہاں سے گزرنے پر فیس عائد کرے۔ جرمنی نے یہ بھی کہا کہ چین ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

آسٹریا نے اپنی غیر جانبدار پالیسی برقرار رکھتے ہوئے امریکا کی جانب سے کی جانے والی تمام فوجی پروازوں کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق آسٹریا کسی بھی ایسے تنازع میں شامل نہیں ہوگا جس میں جنگ جاری ہو، اور اس کی فضائی حدود کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے چالیس سے زائد ممالک کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم سمندری راستے کی بندش عالمی معیشت کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھولنے کی تجویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی نہ صرف طویل اور پیچیدہ ہوگی بلکہ اس سے خطے میں مزید کشیدگی اور خطرات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معاملات میں سنجیدگی اور مستقل مزاجی نہایت ضروری ہے۔

پاکستان نے بھی اس بحران میں اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک برادر ملک کی حیثیت سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف ممالک سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی اس سلسلے میں اہم قرار دیا۔

مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے پاکستان اور چین کے پانچ نکاتی منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی رابطے جاری رکھے جائیں گے اور سفارتی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

جنوبی کوریا نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو فیس ادا کرنے پر غور کر رہا ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور یہ اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کے دوران فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود مکالمہ جاری رکھنا ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔

خلیجی تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ خلیجی ممالک جنگ نہیں چاہتے بلکہ امن، استحکام اور سلامتی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں اضافہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جو پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

ادھر ایران سے بھارت کے لیے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جو دو ہزار انیس کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی توانائی منڈی میں اہم تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

روس نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ روسی جوہری ادارے کے سربراہ کے مطابق ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ سے عملے کے انخلا کے لیے امریکا اور اسرائیل سے عارضی جنگ بندی کی درخواست کی جائے گی، جبکہ انخلا کا آخری مرحلہ آئندہ ہفتے مکمل ہونے کی توقع ہے۔

ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

فلپائن کو ایران کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اس کے بحری جہازوں، ایندھن کی ترسیل اور ملاحوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرنے دیا جائے گا۔ یہ یقین دہانی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے دوران کروائی گئی۔

کریملن کے ترجمان کے مطابق روسی صدر جلد ہی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے متعلق جنگ اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

مجموعی طور پر عالمی برادری اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ فوری جنگ بندی، سفارتی کوششوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز میں استحکام کی بحالی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن، سلامتی اور معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں