ایف بی آر کا سوشل میڈیا آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ، انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز ہدف

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت آن لائن کمائی کرنے والے انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والے افراد کو ہدف بنایا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس قواعد دو ہزار دو میں ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے پاکستانی شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔

مجوزہ قواعد کے مطابق اشتہارات، برانڈ اسپانسرشپس اور دیگر آن لائن ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے گا، خاص طور پر وہ آمدن جو پاکستانی صارفین کے ساتھ تعامل کے ذریعے حاصل ہو۔

ٹیکس کے قابل آمدن کا تعین کل کمائی اور اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، جبکہ حکام اوسط ویوز، مواد کی تعداد اور سالانہ سرگرمی کو بھی جانچیں گے تاکہ درست ٹیکس واجبات کا تعین کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق ٹیکس کے حساب کے لیے ایک مخصوص فارمولا بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ اس عمل کو شفاف اور یکساں بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ متعلقہ افراد کو اپنی سالانہ ٹیکس ریٹرن میں اس آمدن کو علیحدہ طور پر ظاہر کرنا ہوگا۔

ایف بی آر نے اس مسودے پر عوام اور متعلقہ حلقوں سے ایک ہفتے کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں، جس کے بعد ترامیم کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف حکومتی محصولات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی بنانے اور آن لائن کمائی کرنے والوں کو ٹیکس نظام کا حصہ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں