عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پاکستان کا آئی ایم ایف سے نرمی کا مطالبہ، پیٹرولیم بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا فیصلہ

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ سے اپنے پروگرام میں نرمی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام تک منتقل کرنے کی حکمت عملی بھی اختیار کر لی ہے۔

یہ پیش رفت وزارت خزانہ کی جانب سے اس اہم ملاقات کے بعد سامنے آئی جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات اسی ماہ ہونے والے عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے بہاری اجلاسوں سے قبل منعقد ہوئی۔

وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق دونوں فریقین نے پاکستان کی عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ جاری روابط کا جائزہ لیا اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیر خزانہ نے اس موقع پر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم انہوں نے بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر پروگرام میں لچک کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے امریکی سفارتکار کو توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا، جن میں ایندھن کی خریداری، قیمتوں کے تعین کا نظام اور ہدفی سبسڈی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک جانب ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تو دوسری جانب قیمتوں کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ اصل لاگت صارفین تک منتقل ہو، جبکہ کمزور طبقات جیسے چھوٹے کسانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ہدفی سبسڈی فراہم کی جا سکے۔

حکومت گزشتہ تین ہفتوں سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو منجمد کیے ہوئے ہے، جس پر اب تک تقریباً ایک سو انتیس ارب روپے کا بوجھ پڑ چکا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں ڈیزل کی قیمت میں دو سو بیس فیصد سے زائد جبکہ پیٹرول میں اسی فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جمعرات کو ہی ڈیزل کی قیمت میں پندرہ فیصد سے زائد اضافہ ہوا جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے، جس سے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے صوبوں کو بھی اس عمل میں شامل کرتے ہوئے موٹر سائیکل سواروں، کسانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہدفی ریلیف فراہم کیا جا سکے اور درآمدی لاگت کو مرحلہ وار صارفین تک منتقل کیا جا سکے۔

بیان کے مطابق ملاقات میں توانائی کے شعبے کی صورتحال اور مجموعی معاشی منظرنامے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے کمزور طبقات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

وزیر خزانہ نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پاکستان کی درآمدی بل، مہنگائی اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر نٹالی بیکر نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کی حمایت کا اعادہ کیا اور مشکل حالات میں معیشت کو مستحکم کرنے کی حکومتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے میں امریکی دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔

دونوں فریقین نے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل روابط اور علاقائی تجارت کے فروغ کے امکانات پر بھی غور کیا۔

وزیر خزانہ نے امریکی شراکت داروں کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ساختی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات، موجودہ معاشی صورتحال اور تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نٹالی بیکر نے واشنگٹن میں منعقد ہونے والے ایک حالیہ اجلاس کا بھی ذکر کیا جس میں پالیسی سازوں، بیرون ملک پاکستانیوں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیش نظر حکومت ایک متوازن حکمت عملی اختیار کر رہی ہے جس میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، عالمی اداروں سے تعاون حاصل کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں