دبئی/تہران (ایم این این) – ایران نے جمعہ کو دو امریکی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں سے جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
حکام کے مطابق ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران کے اندر مار گرایا گیا جس کے ایک اہلکار کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرا لاپتا ہے اور اس کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایک امریکی اے ٹین طیارہ ایرانی دفاعی نظام کا نشانہ بن کر خلیج میں گر کر تباہ ہوا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اس جنگ کے دوران امریکی طیارے تباہ ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے اور جلد کارروائی مکمل کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس حوالے سے مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے مختصر بیان میں کہا کہ یہ جنگ کا حصہ ہے اور اس سے مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مار گرایا جانے والا ایک طیارہ ایف 15 اسٹرائیک ایگل تھا، جس میں پائلٹ اور اسلحہ آپریٹر سوار ہوتے ہیں۔ مقامی نشریات میں عوام سے کہا گیا کہ کسی بھی “دشمن پائلٹ” کی اطلاع حکام کو دیں۔
اسی دوران ایران نے خطے میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ کویت کی مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جبکہ ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بھی نقصان پہنچا۔
بحرین میں سائرن بجائے گئے، سعودی عرب نے ایرانی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ اسرائیل نے میزائل حملوں کی اطلاع دی۔ متحدہ عرب امارات میں بھی ایک گیس فیلڈ کو بند کرنا پڑا جہاں میزائل کے ملبے سے آگ لگ گئی۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے پر کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد 50 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ ایران میں 28 فروری سے اب تک 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ خلیجی ممالک، اسرائیل اور مغربی کنارے میں بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ لبنان میں 1300 سے زائد افراد جاں بحق اور 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔
عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے پر غور کرنے والی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے مختلف بیانات دیے ہیں، کبھی ایران کو راستہ کھولنے کی وارننگ دی اور کبھی دیگر ممالک کو خود اپنے تیل کے انتظام کا مشورہ دیا۔
ماہرین کے مطابق امریکی طیاروں کی تباہی اس جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے جو مزید بڑے فوجی تصادم اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔


