ماسکو (ایم این این) – روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو ٹیلیفونک رابطے میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے فوری خاتمے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ جنگ ایک ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا۔
کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ فوری جنگ بندی اور ایسے امن معاہدے ضروری ہیں جو خطے کے تمام ممالک کے جائز مفادات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جاری جنگی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور لاجسٹکس کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے بحیرہ اسود میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ روس نے یوکرین پر روس اور ترکی کو ملانے والی گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
روسی حکام کے مطابق ایک روز قبل ترک اسٹریم گیس پائپ لائن پر ڈرون حملہ ناکام بنایا گیا، جسے گیزپروم چلاتی ہے۔
یہ پائپ لائن ہنگری، سلوواکیہ اور سربیا سمیت کئی یورپی ممالک کو گیس فراہم کرتی ہے۔
روس نے یوکرین پر متعدد بار اپنی توانائی تنصیبات پر حملوں کا الزام لگایا ہے، جبکہ یوکرین بھی گزشتہ چار سال سے جاری جنگ میں روسی توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد سے یوکرین میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث لاکھوں افراد بجلی اور حرارت سے محروم ہو چکے ہیں۔


