آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کی نئی دھمکیاں، ایران کے علاقائی حملوں سے جنگ کے خدشات میں اضافہ

0
1

دبئی (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مقررہ وقت تک نہ کھولا گیا تو ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کیے جا سکتے ہیں اور اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو ایران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی افواج نے ایران میں گرنے والے ایک پائلٹ کو خطرناک آپریشن کے بعد بحفاظت نکال لیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق زخمی اہلکار کو پہاڑی علاقے سے نکالا گیا جبکہ دوسرے عملے کے رکن کو چند گھنٹوں میں علیحدہ کارروائی کے ذریعے بچا لیا گیا۔

تاہم ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ریسکیو آپریشن کو ناکام بنایا اور امریکی طیاروں کو نقصان پہنچایا۔ ایرانی میڈیا نے مبینہ طور پر تباہ شدہ امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی تصاویر بھی نشر کیں۔

کشیدگی خطے کے دیگر ممالک تک پھیل گئی ہے۔ ایران نے متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ متحدہ عرب امارات میں ملبہ گرنے سے آگ لگنے کے واقعات پیش آئے جبکہ کویت میں بجلی اور پانی کے منصوبے متاثر ہوئے۔ بحرین میں بھی تیل کے ذخائر پر حملہ کیا گیا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ باب المندب میں بھی جہاز رانی کو متاثر کر سکتا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی جنگی نقصانات کے ازالے سے مشروط ہو سکتی ہے۔ ایرانی وزیر ثقافت سید رضا صالحی امیری نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو متضاد اور غیر متوقع قرار دیا۔

ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں مزید سخت جوابی کارروائیاں کی جائیں گی۔ ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے تیل کے ذخائر اور پانی کے پلانٹس جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنانا خطرناک رجحان ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت شہری تنصیبات پر حملے صرف اسی صورت جائز سمجھے جاتے ہیں جب ان سے واضح فوجی فائدہ حاصل ہو اور شہری نقصان کم سے کم ہو، تاہم ماہرین کے مطابق یہ معیار پورا کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب ایک ایف پندرہ طیارہ ایران میں گر کر تباہ ہوا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے ایک اور امریکی طیارہ بھی مار گرایا۔

ادھر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ عمان میں مذاکرات ہوئے جبکہ مصر، ترکی، پاکستان اور روس بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔

یہ تنازع، جو اٹھائیس فروری سے جاری ہے، ہزاروں جانیں لے چکا ہے۔ ایران، اسرائیل، لبنان اور خلیجی ممالک میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ لبنان میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور کسی بھی غلط قدم یا اشتعال انگیزی سے یہ تنازع وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں