واشنگٹن (ایم این این): ایران کے اندر کیے گئے انتہائی خطرناک امریکی ریسکیو آپریشنز میں دو امریکی اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم اس دوران تقریباً 222 ملین ڈالر مالیت کے فوجی اثاثے تباہ ہو گئے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں اہم فضائی اثاثے ضائع ہوئے جن میں دو ایچ سی-130 جے کامبیٹ کنگ ٹو طیارے شامل ہیں جن کی مالیت تقریباً 100 ملین ڈالر فی طیارہ ہے، جبکہ چار ایم ایچ-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹرز بھی تباہ ہوئے جن کی قیمت تقریباً 4.5 ملین ڈالر فی ہیلی کاپٹر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان آپریشنز کو امریکی تاریخ کے جرات مندانہ ترین ریسکیو مشنز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں دشمن کے علاقے سے دوسرے اہلکار کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق زخمی اہلکار دشوار گزار پہاڑی علاقے میں دشمن کے نرغے میں تھا لیکن اب وہ خطرے سے باہر ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ دونوں پائلٹس کو الگ الگ کارروائیوں میں دشمن کے علاقے کے اندر سے نکالا گیا، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ انہوں نے ایران کی فضاؤں پر مکمل فضائی برتری کا بھی دعویٰ دہرایا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک اہلکار ایک دن سے زائد عرصے تک پہاڑوں میں چھپا رہا اور جدید مواصلاتی آلات کے ذریعے ریسکیو ٹیم سے رابطے میں رہا، جبکہ امریکی کمانڈوز نے ریسکیو کے دوران دشمن کو دور رکھنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق کچھ طیاروں کو ایرانی حدود میں ایک دور دراز مقام پر تباہ کرنا پڑا تاکہ وہ ایران کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ ایک اور کارروائی میں ایف-15 پائلٹ کو چند گھنٹوں بعد ریسکیو کر لیا گیا، تاہم اس دوران ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کی زد میں آ کر متاثر ہوا اور اس کا عملہ زخمی ہوا۔
دوسری ریسکیو کارروائی ہفتے کے روز مکمل کی گئی جس میں خصوصی کمانڈوز اور فضائی مدد شامل تھی، اور تمام اہلکار بحفاظت واپس آ گئے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی فورسز کو روکنے کے لیے ان کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک اے-10 حملہ آور طیارہ مار گرایا، جبکہ امریکی فضائی برتری کے دعوؤں کو بھی چیلنج کیا۔
ایرانی فوج نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔ ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق اصفہان کے قریب کیے گئے اس آپریشن میں دو سی-130 طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اسرائیل اور کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں میں معاہدہ کرنے یا سخت نتائج بھگتنے کی وارننگ دی۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں شدید ردعمل کو جنم دے سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے جس پر پاکستان سمیت کئی ممالک کا انحصار ہے، اور کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
سفارتی کوششوں میں تعطل کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، اور ماہرین کے مطابق کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی سے یہ تنازع تیزی سے وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔


