ٹرمپ کی ایران کو شدید دھمکیاں، جنگ میں شدت، بڑے حملوں کا انتباہ

0
2

اسلام آباد (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں میں شدت لاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے منگل تک آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ نہ کیا تو ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں “بالکل فکر مند نہیں” اور ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کرنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا یا نہیں۔

ٹرمپ نے نیٹو اور ایشیائی اتحادیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان اور آسٹریلیا نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔

انہوں نے ایک امریکی ایف-15 طیارے کے ایران میں مار گرائے جانے اور اس کے بعد ہونے والے بڑے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی بیان کیں، جس میں 150 سے زائد طیارے شامل تھے۔ زخمی پائلٹ نے دشمن کے علاقے میں رہتے ہوئے امریکی فورسز سے رابطہ کیا اور بعد میں اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق ایک اور طیارہ بھی دشمن کی فائرنگ کی زد میں آیا، تاہم اس کا پائلٹ محفوظ رہا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ آپریشن تقریباً 45 گھنٹے تک مسلسل جاری رہا۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف میجر جنرل مجید خادمی مارے گئے، جس کی ذمہ داری اسرائیل نے قبول کی ہے۔ اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس پلانٹ پر حملے کا بھی دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں میزائل حملے کیے۔

پیر کے روز ہونے والے تازہ حملوں میں 25 سے زائد افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جس سے جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ تنازع امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت محدود کر دی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کیلئے نہایت اہم ہے، جس کے باعث عالمی معیشت متاثر ہوئی۔

ایران نے عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے مستقل امن کی شرط رکھی ہے، جبکہ پاکستان اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

جنگ کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور عالمی برادری کو توانائی کی فراہمی، سکیورٹی اور معاشی اثرات کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں