ٹرمپ کا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان، شہباز شریف اور عاصم منیر سے مشاورت

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر سے گفتگو کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

اپنے سوشل میڈیا بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر “بمباری اور حملے” دو ہفتوں کے لیے روکنے پر آمادہ ہو گئے ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔

انہوں نے اس اقدام کو “دو طرفہ جنگ بندی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی قیادت کی جانب سے تحمل اختیار کرنے اور سفارتی کوششوں کو موقع دینے کی درخواست کے بعد کیا گیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر مستقل امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم ہوں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ سے اپیل کی تھی کہ ایران سے متعلق ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے اور سفارتی عمل کو مکمل ہونے کا موقع دیا جائے، جبکہ ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور تمام فریقین سے جنگ بندی کی بھی درخواست کی گئی تھی۔

دوسری جانب ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے سرخ لکیر عبور کی تو سخت ردعمل دیا جائے گا اور طویل عرصے تک تیل و گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش اور جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی کی صورتحال اور علاقائی استحکام شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ ماہرین اسے ممکنہ سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں