امریکہ، ایران جنگ بندی: تعمیر نو کا عندیہ، عالمی سطح پر خیرمقدم

0
1

اسلام آباد (ایم این این) – امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عارضی جنگ بندی کے اعلان کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور آئندہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو رہی ہے-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اب تعمیر نو کا عمل شروع کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا، جبکہ آنے والے دنوں میں مثبت پیش رفت اور معاشی فوائد کی توقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران نے اپنے اتحادیوں سمیت فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس کا اطلاق لبنان سمیت “ہر جگہ” ہوگا۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں اس پیش رفت کو دانشمندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے وفود کو ۱۰ اپریل ۲۰۲۶ کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت بھی دی تاکہ تمام تنازعات کے مستقل حل کے لیے بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ “اسلام آباد مذاکرات” خطے میں پائیدار امن کا باعث بنیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کرنا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ شہریوں کے تحفظ اور انسانی تکالیف میں کمی کے لیے فوری طور پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا، جبکہ خصوصی ایلچی جین آرنالٹ خطے میں موجود رہ کر امن کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ بندی کی مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولے اور امریکہ، اسرائیل سمیت دیگر ممالک پر حملے بند کرے تو ہی مکمل حمایت ممکن ہوگی۔

اسرائیل نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوگی، جہاں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں بدستور جاری رہ سکتی ہیں۔ اسرائیل نے امریکہ کی ان کوششوں کی بھی حمایت کی ہے جن کا مقصد ایران کو مستقبل میں جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔

یہ پیش رفت خطے میں ایک نازک مگر امید افزا مرحلے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور عالمی قیادت مستقل امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دے رہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں