پاکستان، افغانستان میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، چین میں مذاکرات

0
5

اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان اور افغانستان نے چین کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران باہمی کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو خطے میں تناؤ کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کے مطابق چین، پاکستان اور افغانستان کے نمائندوں نے یکم سے سات اپریل تک سنکیانگ کے شہر اُرمچی میں غیر رسمی اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان کے مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے جہاں فریقین کے درمیان کھل کر اور عملی نوعیت کی بات چیت کی گئی۔

مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان نے جلد از جلد اپنے اختلافات حل کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ ایسے کسی اقدام سے گریز کریں گے جو صورتحال کو مزید خراب یا پیچیدہ بنا سکتا ہو۔

تاہم اس پیش رفت پر پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

فروری کے آخر میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن غضب لی الحق شروع کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط تقریباً معطل ہو گئے تھے۔ حالیہ مذاکرات ایک سہ فریقی طریقہ کار کے تحت ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سرحدی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے قبل ازیں کہا تھا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف “واضح اور قابل تصدیق اقدامات” کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں مذاکرات میں شرکت پاکستان کے اس مستقل مؤقف کا تسلسل ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابل اعتماد اور دیرپا حل تلاش کیا جائے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس عمل کی اصل ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔

دو ہزار اکیس میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان بارہا افغان حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کرے، تاہم حکام کے مطابق ان مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

آپریشن غضب لی الحق چھبیس فروری کی رات سرحد پار سے ہونے والی بلااشتعال فائرنگ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ اٹھارہ سے تئیس مارچ تک عید الفطر کے موقع پر پانچ روزہ عارضی وقفہ بھی کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق یہ آپریشن اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔

سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی دونوں ممالک کی جانب سے کیے گئے عارضی وقفوں کی ایک اہم وجہ رہی ہیں۔

اس سے قبل آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان حکومت دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کرے۔

یہ حالیہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی نئی سفارتی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم دیرپا امن کے حصول کے لیے ابھی کئی چیلنجز باقی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں