اسلام آباد (ایم این این) – وزیرِاعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر نے جمعرات کو خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق آرمی چیف نے وزیرِاعظم سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اب تک حاصل ہونے والی کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا۔
قیادت نے تمام اطراف کی جانب سے دکھائے گئے تحمل کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔ وزیرِاعظم نے فریقین کی سنجیدگی کو بھی سراہا اور وفود کو پاکستان میں خوش آمدید کہنے کا اعادہ کیا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچنے والے ہیں۔ پاکستان نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کا بحران بھی پیدا ہوا۔
کشیدگی کے آغاز سے ہی وزیرِاعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ 24 مارچ کو پاکستان نے باضابطہ طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔
بعد ازاں سفارتی سرگرمیاں تیز ہوئیں اور دونوں ممالک نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی شمولیت سے ایک اہم اجلاس بھی اسلام آباد میں ہوا جبکہ چین کے ساتھ مل کر پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جنگ بندی کے لیے ڈیڈ لائن دی، تاہم پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی۔
ایران نے بھی عندیہ دیا کہ اگر حملے بند ہوئے تو وہ دفاعی کارروائیاں روک دے گا، تاہم لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے باعث جنگ بندی غیر مستحکم ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی عمل کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے، جبکہ علاقائی رہنماؤں نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا ہے۔


