اسلام آباد (ایم این این) — پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان 14 گھنٹے طویل مذاکرات اسلام آباد میں مکمل ہوگئے، تاہم دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ باقی اختلافات کے باوجود بات چیت آج اتوار کو دوبارہ شروع کی جائے گی۔
مذاکرات کے تیسرے دور میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان براہ راست بات چیت کے ساتھ ماہرین کی سطح پر تفصیلی مشاورت بھی جاری رہی۔ طویل ملاقاتوں کے بعد تکنیکی ٹیموں کے درمیان تحریری تجاویز کا تبادلہ کیا گیا، جس سے مذاکرات ایک تفصیلی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات ماہرین کی سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں معاشی، عسکری، قانونی اور جوہری امور سے متعلق کمیٹیاں سرگرم ہیں، جبکہ اہم اختلافات ابھی باقی ہیں۔
یہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہے ہیں، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی اور جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر پڑے۔ بعد ازاں پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جن کے ساتھ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں وفود سے علیحدہ ملاقاتیں کیں اور پاکستان کے ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ثابت ہوں گے۔


