اسلام آباد (ایم این این) — امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایرانی بندرگاہوں اور سمندری راستوں پر وسیع پیمانے پر ناکہ بندی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جو پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔
سینٹکام کے مطابق یہ پابندیاں پیر سے نافذ ہوں گی اور ان کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا، تاہم غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کرنے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ اقدام ایران کے عالمی توانائی کے اہم سمندری راستے پر اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا کہ امریکی بحریہ ان جہازوں کو روکے گی جو ایران کو کسی قسم کا ٹول ادا کریں گے، اور کہا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو محفوظ گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو ایران کے ساتھ تجارتی مفادات رکھتا ہو۔
یہ پیش رفت پاکستان میں ہونے والے اعلیٰ سطحی امریکہ ایران مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد سامنے آئی، جو کئی ہفتوں کی سفارتی کوششوں کے باوجود کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ ایران کے جوہری پروگرام پر شدید اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی سخت ضمانت چاہتا ہے، جبکہ ایران نے یورینیم افزودگی سمیت کئی امریکی مطالبات مسترد کر دیے۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا، “اگر آپ لڑیں گے تو ہم بھی لڑیں گے۔”
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور فوجی جہازوں کو سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ عام تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی تیل تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔
پاکستان نے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد تمام فریقین کے درمیان مکالمے میں سہولت کاری جاری رکھے گا، جبکہ عمان اور روس سمیت دیگر ممالک نے بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔
ایران نے بھی مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔


