وزیر اعظم شہباز شریف کا کابل سے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

0
62


اسلام آباد — وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز افغانستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف سخت کارروائی کرے کیونکہ یہ علاقائی امن کے قیام کے لیے بنیادی شرط ہے-

اسلام آباد میں پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں استحکام خطے میں رابطہ، ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، ’’افغانستان کو سمجھنا ہوگا کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو قابو میں لایا جائے جو افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔‘‘

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اندرونی اور بیرونی سطح پر کئی چیلنجوں کا سامنا کیا، لیکن امن و استحکام کے لیے اپنی کوششوں میں ثابت قدم رہا۔ انہوں نے رواں سال بھارت کے ساتھ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے اسے ’’مشرقی سرحد پر مئی میں ہونے والی بلا اشتعال جارحیت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی ’’انتہائی پیشہ ور افواج‘‘ نے بروقت زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے عزائم ناکام بنائے اور قومی خودمختاری کے دفاع کا عزم دکھایا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے جنگ جیت لی ہے، اب ہمیں امن جیتنے کی ضرورت ہے، اور یہ صرف خلوص نیت اور مستقل کوششوں سے ممکن ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہ افغانستان کے اندر اور اس کے باہر امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ردعمل ’’فیصلہ کن اور دو ٹوک‘‘ تھا، جس کا مقصد دشمن کو سبق سکھانا تھا۔

انہوں نے قطر اور ترکی کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیر اعظم کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعے کے روز تصدیق کی تھی کہ بات چیت کے چوتھے دور کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان استنبول میں ہونے والا تیسرا دور بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، حالانکہ ترکی اور قطر نے مصالحتی کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن سرحدی جھڑپوں کے بعد اختلافات برقرار رہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں