اسلام آباد — پاکستان نے اقوامِ متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں تک جدید ہتھیاروں کی غیر قابو شدہ رسائی خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست اور بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب، اسیم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ اسلام آباد افغانستان میں حالات پر شدید تشویش رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان کو افغانستان میں جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی پر گہری تشویش ہے، جیسا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹس میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ہتھیار پڑوسی ممالک کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔‘‘
گذشتہ ماہ پاکستان اور افغان افواج میں جھڑپیں ہوئیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جو طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد سب سے شدید تشدد تھا۔ دوںوں فریقین نے اکتوبر میں دوحہ میں جنگ بندی پر دستخط کیے، لیکن استنبول میں مذاکرات دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے اختلافات کے سبب ناکام رہے۔
سفیر نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں جیسے کہ فتنے الخوارج، فتنے ہندوستان، داعش-کے، ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی، اور مجید بریگیڈ کا ذکر کیا جو پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف ہتھیار استعمال کر چکے ہیں اور ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان طالبان ان دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔
انہوں نے اسلحہ سمگلنگ کے نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’پاکستان-افغان سرحد پر قبضہ شدہ ہتھیار غیر ملکی افواج کے چھوڑے ہوئے ذخائر اور افغان کالے بازار سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان غیر نشان زدہ ہتھیاروں کی نقل و حرکت غیر ریاستی مسلح گروہوں، دہشت گرد نیٹ ورکس اور مجرمانہ عناصر کو مضبوط کرتی ہے، جس سے خطے کی سلامتی خطرے میں آتی ہے۔‘‘
سفیر نے ہتھیاروں کے انسانی اور سماجی اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا، ’’چھوٹے اور ہلکے ہتھیار چھوٹے یا ہلکے نہیں ہوتے۔ یہ ترقی کے امکانات کو روک دیتے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں حصہ ڈالتے ہیں اور امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘‘
انہوں نے جدید ہتھیاروں جیسے ڈرون، مصنوعی ذہانت پر مبنی ہتھیار، تھری ڈی پرنٹڈ اسلحہ اور جدید نائٹ وژن آلات کے ذریعے ہتھیاروں کی غیر قانونی نقل و حرکت کے چیلنجز کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ، کریپٹو کرنسی اور ڈارک ویب کے ذریعے ہتھیاروں کی خفیہ خریداری کی بڑھتی ہوئی خطرات کی نشاندہی کی۔
سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے ’’پروگرام آف ایکشن آن دی الیگل ٹریڈ ان سمال آرمز اینڈ لائٹ ویپنز‘‘ کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے تاکہ ریاستوں کی جائز سلامتی ضروریات اور غیر قانونی ہتھیاروں کی رسائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا، ’’نئی ٹیکنالوجیز نئے چیلنجز کے ساتھ ساتھ مؤثر کنٹرول اور بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ عالمی برادری کو خطے اور دنیا میں امن کے تحفظ کے لیے جامع اور متوازن اقدامات کرنے ہوں گے۔‘‘


