برطانیہ کی سخت ترین پناہ گزین پالیسی اصلاحات؛ عارضی اسٹیٹس، مستقل رہائش کا وقت 20 سال کر دیا گیا

0
61

لندن (ایم این این); برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پناہ گزینوں کا اسٹیٹس اب عارضی ہوگا اور مستقل رہائش کے حصول کا دورانیہ بڑھا کر 20 سال کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام جدید برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی اور سخت ترین پناہ گزین پالیسی اصلاحات قرار دیا جا رہا ہے۔

لیبر حکومت، جس پر ریفارم یوکے پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا دباؤ ہے، خاص طور پر فرانس سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمد کو روکنے کیلئے امیگریشن قوانین مزید سخت کر رہی ہے۔ حکام نے کہا کہ برطانیہ ڈنمارک کے سخت ماڈل سے رہنمائی حاصل کرے گا، جسے یورپ بھر میں تنقید کا سامنا ہے مگر متعدد ممالک میں اسی طرز کی پابندیاں بڑھ رہی ہیں۔

ہوم آفس کے مطابق اہم تبدیلیوں میں چند پناہ گزینوں کے لیے سرکاری رہائش اور ہفتہ وار الاونس فراہم کرنے کی قانونی ذمہ داری ختم کرنا شامل ہے۔ یہ پالیسی ان افراد پر لاگو ہوگی جو کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر کام نہیں کرتے، یا قانون شکنی کے مرتکب پائے جائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاستی وسائل اُن لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر دیے جائیں گے جو برطانوی معاشرے اور معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

ہوم آفس نے کہا کہ پناہ گزینوں کا تحفظ اب عارضی ہوگا، ہر چند سال بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر متعلقہ ملک کو محفوظ قرار دیا گیا تو اسٹیٹس منسوخ بھی کیا جا سکے گا۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یورپی ممالک میں پناہ گزین پانچ سال بعد خود بخود مستقل رہائش حاصل کر لیتے ہیں، مگر برطانیہ میں اب ہر ڈھائی سال بعد اسٹیٹس کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقل رہائش کا دورانیہ 20 سال تک بڑھا دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پیر کو مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی، جن میں یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 8 سے متعلق اعلان بھی شامل ہوگا۔ حکومت چاہتی ہے کہ وہ ای سی ایچ آر کا حصہ رہے لیکن آرٹیکل 8 کی ایسی تشریح بدلنا چاہتی ہے جو غیر قانونی رہائش رکھنے والوں کی ملک بدری میں رکاوٹ بنتی ہے۔

حکومت کے سخت مؤقف پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ 100 سے زائد برطانوی چیریٹی اداروں نے محمود کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ مہاجرین کو نشانہ بنانے اور نقصان دہ پالیسیوں کے سلسلے کو روکا جائے، کیونکہ یہ اقدامات نسل پرستی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 تک کے سال میں 1,09,343 افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے اور 2002 کی بلند ترین سطح سے بھی زائد ہے۔

محمود نے کہا کہ حکومت مزید محفوظ اور قانونی راستے کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ برطانیہ کو خطرے سے بھاگنے والوں کی مدد کرنی چاہیے۔

ہوم آفس کا کہنا ہے کہ نئی اصلاحات ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک کے معیار کے مطابق ہوں گی، جہاں پناہ گزینوں کو عارضی تحفظ، مشروط مدد اور معاشرے میں مکمل انضمام کی توقع کی جاتی ہے۔

ڈنمارک کے ماڈل میں پناہ گزینوں کو عموماً دو سال کے لیے عارضی رہائشی اجازت نامہ دیا جاتا ہے، جو ختم ہونے پر دوبارہ درخواست دینا ہوتی ہے۔ اگر ان کا ملک محفوظ قرار دے دیا جائے تو انہیں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ ڈنمارک نے شہریت کے حصول کا طریقہ کار بھی مزید طویل کر دیا ہے۔ ہوم آفس کے مطابق ان پالیسیوں نے پناہ کی درخواستوں کو 40 سال کی کم ترین سطح تک پہنچا دیا، جبکہ مسترد شدہ درخواستوں میں سے 95 فیصد افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی پالیسیاں مہاجرین کے لیے ماحول کو دشمنانہ بناتی ہیں، تحفظ کو کمزور کرتی ہیں اور پناہ گزینوں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھتی ہیں۔ برطانیہ کی ریفیوجی کونسل نے کہا کہ مہاجرین پناہ کی پالیسیوں کا موازنہ نہیں کرتے، وہ زیادہ تر خاندان، زبان یا برطانیہ میں موجود کمیونٹی روابط کی وجہ سے یہاں پہنچتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں