اسلام آباد (ایم این این) – اسلام آباد میں قائم سویڈن کے سفارتخانے نے گزشتہ شب اپنے روایتی لوسیا فیسٹیول کا اہتمام کیا، جس کے ذریعے سویڈن کی محبوب تہذیبی روایت کو پاکستان میں پیش کیا گیا۔ اس تقریب نے موسیقی، موم بتیوں اور امید و یکجہتی کے پیغام کے ساتھ جشنِ سرما کا آغاز کیا۔
چار سو سالہ تاریخ رکھنے والی لوسیا روایت سویڈن کی ثقافت میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ہر دسمبر میں سفید لباس میں ملبوس، موم بتیاں تھامے گاتے ہوئے جلوس روشنی کی آمد کی علامت کے طور پر سب سے اندھیری راتوں میں نئی امید کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ روایت سینٹ لوسیا ڈے سے منسوب ہے، جو امن، گرمجوشی اور روشنی کے اندھیرے پر غالب آنے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
تقریب کا مرکزی حصہ لوسیا پروسیشن تھا، جس میں سویڈن اور دیگر نارڈک ممالک کے افراد نے روایتی سویڈش گیت گا کر ایک پرسکون اور خوشگوار ماحول پیدا کیا۔
سویڈن کی سفیر برائے پاکستان، الیگزینڈرا برگ فون لنڈے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوسیا محض ایک روایت نہیں بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم مشکل وقتوں میں بھی ایک دوسرے کیلئے روشنی کی کرن بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوستوں کے ساتھ اس روایت کو شیئر کرنا دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی دوستی اور خیر سگالی کی علامت ہے۔
اس سال کی تقریب میں “سویڈن اِن جنرل – سویریے A–Ö” کے عنوان سے ایک نمائش بھی شامل تھی، جس میں سویڈش حروفِ تہجی کے ذریعے سویڈن کی روزمرہ زندگی، جدت، مساوات، فطرت، تعلیم اور ڈیزائن سمیت مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو روایتی سویڈش موسمی پکوان، جیسے زعفرانی بن، جنجر بریڈ کوکیز اور میٹ بالز پیش کیے گئے، جس سے شرکا نے حقیقی سویڈش ذائقوں سے لطف اٹھایا۔
اسلام آباد میں لوسیا فیسٹیول کے ذریعے سویڈن کا سفارتخانہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط مضبوط بنانے، دوستی کے نئے دروازے کھولنے اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔


