ویب ڈیسک (ایم این این) –کھانا پکانے کا تیل ہر باورچی خانے کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کون سا تیل واقعی صحت مند ہے، اب پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ زیتون کے تیل کو سپر فوڈ کہا جاتا ہے، ناریل کا تیل فیشن بن چکا ہے، جبکہ بعض تیل زیادہ درجہ حرارت پر نقصان دہ ہو جاتے ہیں، جس سے عام صارف الجھن کا شکار ہے۔
ماہر غذائیت روب ہابسن سمیت دیگر غذائی ماہرین نے مختلف تیلوں کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ کون سا تیل کس مقصد کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
زیتون کا تیل خاص طور پر ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل دل اور دماغ کے لیے فائدہ مند مونو اَن سیچوریٹڈ فیٹس اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔ تاہم اس کا اسموک پوائنٹ کم ہوتا ہے، یعنی زیادہ گرم کرنے پر اس کی غذائیت ختم ہو جاتی ہے اور نقصان دہ مادے بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل سلاد، تیار کھانوں پر ڈالنے یا ہلکی آنچ پر سبزیاں پکانے کے لیے بہتر ہے، جبکہ ریفائنڈ زیتون کا تیل نسبتاً زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکتا ہے۔
ناریل کے تیل کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں سیچوریٹڈ فیٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے۔ اگرچہ کچھ حالات میں یہ اچھے کولیسٹرول میں اضافہ کر سکتا ہے، لیکن دل کی صحت پر اس کے اثرات متنازع ہیں۔ ماہرین ناریل کے تیل کو صرف کبھی کبھار استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
کینولا آئل زیتون کے تیل کا ایک مناسب اور کم قیمت متبادل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں سیچوریٹڈ فیٹس کم اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے مفید ہیں۔ السی کا تیل بھی اومیگا تھری سے بھرپور ہے، مگر کم اسموک پوائنٹ کے باعث پکانے کے لیے موزوں نہیں۔ کینولا تیل ہلکی اور درمیانی آنچ پر پکانے کے لیے جبکہ السی کا تیل سلاد کے لیے بہتر ہے۔
سورج مکھی کا تیل اور دیگر بیجوں کے تیل سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اگر اومیگا سکس اور اومیگا تھری کا توازن برقرار رکھا جائے تو یہ تیل نقصان دہ نہیں۔ سورج مکھی کے تیل کا اسموک پوائنٹ زیادہ ہونے کے باعث یہ فرائنگ کے لیے موزوں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند باورچی خانے کے لیے ایک ہی تیل کافی نہیں۔ مختلف کھانوں کے لیے مختلف تیل مناسب مقدار میں استعمال کرنا ہی بہترین انتخاب ہے۔


