راولپنڈی (ایم این این) — شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، تاہم شدید جھڑپوں کے دوران چار سیکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے، آئی ایس پی آر نے جمعے کو بتایا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 19 دسمبر 2025 کو فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج دہشت گردوں، جو بھارتی پراکسی کے طور پر کام کر رہے تھے، نے بویا کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا۔ ریاست فتنہ الخوارج کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں نے کیمپ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے ان کے عزائم ناکام بنا دیے گئے۔ بعد ازاں دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کیمپ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس سے دیوار منہدم ہو گئی۔
دھماکے کے نتیجے میں قریبی آبادی کو شدید نقصان پہنچا، جس میں ایک مسجد اور متعدد مکانات شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 15 شہری شدید زخمی ہوئے، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں 11 زخمیوں کی تصدیق کی گئی تھی جنہیں میر علی کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران وطن کے چار بہادر سپوتوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ شہدا میں حوالدار محمد وقاص (ضلع کوٹلی)، نائیک خانویز (ضلع مانسہرہ)، سپاہی سفیان حیدر (ضلع وہاڑی) اور سپاہی رفعت (ضلع لیہ) شامل ہیں۔
فوج نے کہا کہ یہ گھناؤنا دہشت گرد حملہ افغانستان میں موجود خوارج عناصر کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جو افغان طالبان حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان افغان طالبان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں گے۔ فوج نے خبردار کیا کہ پاکستان عوام کے تحفظ کے لیے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہر جگہ کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں دہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 میں پاکستان دوسرے نمبر پر رہا، جہاں دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد بڑھ گئیں۔


