چناب کے بعد جہلم بھی متاثر، بھارت کی جانب سے پانی روکنے اور چھوڑنے سے بہاؤ میں خلل

0
34

اسلام آباد (ایم این این) — دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی اور اضافہ کے بعد اب دریائے جہلم میں بھی پانی کے بہاؤ میں شدید خلل پیدا ہو گیا ہے، جس کی وجہ بھارت کی جانب سے اوپر کی سطح پر پانی روکنے اور چھوڑنے کے اقدامات بتائے جا رہے ہیں۔

گزشتہ روز وزارتِ خارجہ نے چناب میں اچانک اتار چڑھاؤ پر بھارت سے باضابطہ وضاحت طلب کی، کیونکہ اس کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں مارالا راوی لنک اور دیگر نہروں سے سیراب ہونے والی گندم اور دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔

پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کے دفتر کے مطابق دریائے جہلم میں بھارت کی جانب سے منگلا ڈیم کی طرف آنے والے پانی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

محکمہ آبپاشی کے ایک سینئر افسر نے صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریباً 25 ملین ایکڑ زرعی زمین میں سے 15 ملین ایکڑ کو اس وقت ناکافی یا بالکل پانی نہیں مل رہا۔

اندرونی رپورٹ کے مطابق 14 دسمبر کو منگلا میں دریائے جہلم کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک تھا، جبکہ اخراج 33 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ 15 دسمبر سے 19 دسمبر تک بہاؤ کم ہو کر 3,300 کیوسک رہا، جبکہ اخراج میں کوئی کمی نہیں آئی۔

گزشتہ سال اسی عرصے میں پانی کی آمد 4,400 کیوسک اور اخراج 25 ہزار کیوسک تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے اعداد و شمار بھی انہی اعداد سے مطابقت رکھتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت اپنی حدود میں پانی روک کر اچانک چھوڑ رہا ہے۔

محکمہ آبپاشی کے ایک اور سینئر افسر نے بتایا کہ بھارت اپنے رن آف دی ریور پن بجلی منصوبوں کے ذریعے دریاؤں کے بہاؤ کو کنٹرول کر رہا ہے، جس سے جہلم اور چناب دونوں متاثر ہو رہے ہیں اور پنجاب کے وسیع زرعی رقبے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلابوں کے دوران بھی بھارت نے بغیر اطلاع پانی چھوڑ کر پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔

دوسری جانب وزارتِ آبی وسائل نے کہا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح اب مستحکم ہو گئی ہے۔ وزارت کے مطابق مارالا ہیڈ ورکس پر نگرانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی دن کی بے قاعدگی کے بعد بہاؤ معمول پر آ گیا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ 10 سے 16 دسمبر کے دوران غیر معمولی طور پر پانی میں کمی دیکھی گئی، جبکہ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا کہ بھارت کے بگلیہار ریزروائر کا رقبہ کم ہونے کے بعد دوبارہ بڑھا، جس سے شبہ ہے کہ ذخیرہ خالی کر کے دوبارہ بھرا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو ایسے ذخائر خالی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس نے اس معاملے کو باضابطہ طور پر بھارتی ہم منصب کے ساتھ اٹھاتے ہوئے مکمل تفصیلات اور ڈیٹا طلب کر لیا ہے۔

وزارت کے مطابق 17 دسمبر کو پانی کی سطح میں بہتری آئی اور بہاؤ 6,399 کیوسک تک پہنچ گیا۔ 19 دسمبر تک دریاؤں کا بہاؤ گزشتہ دس برس کی حد کے اندر رہا۔

حکام نے کہا کہ آئندہ بھی پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے جنگی اقدام قرار دیا تھا۔ بعد ازاں جون میں مستقل ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں