پاکستان کی برطانیہ سے اشتعال انگیز ویڈیو پر کارروائی کی درخواست، وفاقی وزرا کی تصدیق

0
27

ویب ڈیسک (ایم این این): پاکستان نے برطانیہ میں پی ٹی آئی کے ایک احتجاج کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں پر برطانوی حکومت کے سامنے باضابطہ سفارتی احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔

دفتر خارجہ نے جمعے کو تصدیق کی کہ اسلام آباد میں برطانیہ کے قائم مقام سربراہِ مشن میٹ کینل کو ڈیمارش جاری کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق یہ اقدام برطانیہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کے اشتعال انگیز اور انتہائی تشویشناک طرزِ عمل کے بعد کیا گیا۔

“یو کے پی ٹی آئی آفیشل” نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک خاتون مقرر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف کار بم حملے کی دھمکی دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جس میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے 1988 کے طیارہ حادثے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ بیانات کھلی جان سے مارنے کی دھمکیاں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے سرکاری پلیٹ فارمز کے ذریعے برطانیہ میں مظاہرین کو متحرک کیا گیا اور احتجاج کے دوران ملکی عسکری قیادت کے خلاف نازیبا اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی۔ حکومت نے واضح کیا کہ برطانوی سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

برطانوی ہائی کمشنر کی عدم موجودگی کے باعث قائم مقام سربراہِ مشن میٹ کینل کو وزارت خارجہ طلب کر کے ڈیمارش دیا گیا۔ اس سے قبل ویڈیو فوٹیج اور اس کا متن اسلام آباد اور لندن میں برطانوی حکام کو فراہم کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے باضابطہ مراسلے میں برطانوی سرزمین کے سنگین غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ اقدامات دہشت گردی، تشدد اور ایک خودمختار ریاست کے اندرونی عدم استحکام کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا کہ یہ مواد سیاسی نہیں بلکہ قتل پر اکسانے اور تشدد کی ترغیب ہے۔

حکام نے خبردار کیا کہ یہ پیغامات جان بوجھ کر پاکستان کے اندر سامعین تک پہنچائے گئے تاکہ بدامنی، سڑکوں پر تشدد اور ریاستی اداروں سے تصادم کو ہوا دی جا سکے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی قتل یا تشدد پر اکسانے کی اجازت نہیں دیتی اور سیاسی سرگرمی کے نام پر دہشت گردی کو فروغ نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دو وزرائے مملکت نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ پاکستانی حکومت نے برطانوی حکام کو خط لکھ کر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ اشتعال انگیز ویڈیو پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اس پیش رفت کی تصدیق کی، جبکہ بلال کیانی نے کہا کہ ویڈیو میں مسلح افواج کے سربراہ کو دھمکی دی گئی ہے۔

بلال کیانی نے اس معاملے میں پاکستان تحریک انصاف کے کردار کا بھی حوالہ دیا، تاہم طلال چوہدری نے کسی جماعت کا نام لینے سے گریز کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک خاتون، جو پی ٹی آئی کے جھنڈے تھامے افراد کے درمیان کھڑی ہے، کسی نام کے بغیر ایک شخص کے خلاف کار بم دھماکے کی خواہش کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر برطانیہ کو لکھا ہے اور توقع کی ہے کہ وہ اپنے قوانین اور عدالتی نظام کے تحت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف قانونی اقدام کرنا پاکستان کا حق ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ اس سے قبل بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں اور سیاسی شخصیات کے خلاف نفرت پھیلانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور اس واقعے کی ویڈیو موجود ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ نہ تو سیاسی معاملہ ہے اور نہ ہی آزادی اظہار کا، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور برطانیہ کے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2006 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ریاست اس بات کی ذمہ دار ہے کہ اس کی سرزمین سے کسی دوسرے ملک کے خلاف تشدد یا بغاوت کو ہوا نہ دی جائے۔

طلال چوہدری نے کار بم دھماکے کے واضح ذکر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مخصوص اور سوچا سمجھا خطرہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ سنگین خدشات برطانوی حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی پر اکسانا یا تشدد کی ترغیب دینا آزادی اظہار نہیں ہو سکتا اور اگر برطانیہ نے کارروائی نہ کی تو پاکستان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ویڈیو میں دکھائے گئے واقعے کو ناقابل قبول اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی سیاست کی آڑ میں تشدد اور دھمکیوں کو فروغ دیتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مبینہ طور پر آرمی چیف کو قتل کی دھمکی دے کر تمام حدیں عبور کر لی ہیں، جو کہ سیاسی اختلاف نہیں بلکہ قومی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات سمیت ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے پی ٹی آئی پر تشدد کی سیاست کا الزام لگایا۔

بلال کیانی نے کہا کہ حکومت سب سے پہلے برطانوی حکومت سے فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کرے گی، تاہم دیگر قانونی راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ ریاستی اداروں کے خلاف مہم چلانے والے یوٹیوبرز کی برطانیہ سے واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ 4 دسمبر کو انہوں نے سابق معاون خصوصی شہزاد اکبر اور یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف حوالگی کی درخواستیں بھی برطانوی ہائی کمشنر کو دی تھیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں