ویب ڈیسک (ایم این این) — پاکستان تحریکِ انصاف نے ہفتے کے روز برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران ایک خاتون کی جانب سے دیے گئے اشتعال انگیز بیان سے خود کو لاتعلق قرار دے دیا، جبکہ پارٹی کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی یو کے کے سوشل میڈیا پیج پر جاری کی گئی، بعد ازاں حذف کر دی جانے والی ویڈیو میں ایک خاتون کو بغیر کسی کا نام لیے نفرت انگیز جملے کہتے ہوئے دیکھا گیا، جن میں ایک بیان یہ بھی شامل تھا کہ کسی شخص کو “گاڑی میں اڑا دیا جانا چاہیے”۔ ویڈیو میں خاتون کے اردگرد پی ٹی آئی کے جھنڈے اٹھائے افراد موجود تھے۔
واقعے کے بعد پاکستان نے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے خلاف برطانوی سرزمین سے دیے گئے اشتعال انگیز بیانات پر ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ایک سخت بیان میں کہا کہ مذکورہ تقریر کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاتون نہ تو پی ٹی آئی کی رکن ہیں اور نہ ہی کسی عہدے پر فائز، اس لیے پارٹی نے ان کے بیانات کو مکمل طور پر مسترد اور مستعمل قرار دیا ہے۔
وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ بیان میں استعمال کی گئی زبان، لہجہ اور خیالات پی ٹی آئی کی پالیسی، نظریے یا وژن کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اصولی طور پر تشدد، نفرت انگیز تقریر، اشتعال انگیزی اور غیر اخلاقی زبان کی سخت مخالفت کرتی ہے اور آئینی و جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے پنجاب میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ان کی کابینہ، ارکان اسمبلی اور وفد کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر پنجاب حکومت کی شدید مذمت کی۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جمعے کے روز لاہور پہنچے تھے، جہاں وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایات پر عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔
پی ٹی آئی کے مطابق 26 دسمبر کو شروع ہونے والا یہ دورہ، جس کا مقصد کارکنوں سے ملاقات اور عوامی مسائل پر گفتگو تھا، پنجاب حکومت نے جان بوجھ کر سیاسی انتقام میں بدل دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وفد کو مختلف مقامات پر روکا گیا، راستے بند کیے گئے اور پنجاب اسمبلی میں توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔
شیخ وقاص اکرم نے منتخب نمائندوں کو اسمبلی سے زبردستی نکالے جانے کو جمہوری اقدار اور وفاقی احترام کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لبرٹی چوک پر پرامن اجتماع روکنے کے لیے بھاری پولیس نفری کی تعیناتی حکمرانوں کے خوف کی عکاس ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کو صحافی بنا کر جان بوجھ کر اشتعال دلانے، تضحیک کرنے اور صوبائی نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ خیبرپختونخوا کے عوام اور ان کے منتخب وزیر اعلیٰ کی توہین بھی ہے۔
ادھر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی نے بھی پنجاب پولیس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات اپوزیشن کو کمزور نہیں بلکہ حکمرانوں کے خوف کو بے نقاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈے عوامی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتے۔


