پاکستان کی ضبط و تحمل کی پالیسی نے بھارت کو بڑے نقصان سے بچایا، صدر زرداری کا انتباہ

0
27

گڑھی خدا بخش (ایم این این) — صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہفتے کے روز کہا کہ بھارت کو شکر گزار ہونا چاہیے کہ پاکستان نے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا، بصورتِ دیگر مزید بھارتی طیارے مار گرائے جا سکتے تھے۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاکستان نے فضائی لڑائی کے دوران سات بھارتی طیارے مار گرائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان پوری طرح تیار ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ خود کو بڑی عالمی معیشت کہلانے والا ملک چند دن بھی جنگ برداشت نہ کر سکا۔ انہوں نے دہرایا کہ پاکستان نے نرمی دکھائی، ورنہ “ان کے تمام طیارے گرائے جا سکتے تھے”۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن نہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کی یاد دلاتا ہے بلکہ وہ لمحہ بھی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کو بچایا گیا۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد لگنے والے نعرے “پاکستان کھپے” کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس نعرے نے نازک وقت میں ملک کو متحد رکھا۔

صدر زرداری نے کہا کہ اگر کوئی پاکستان پر بری نظر ڈالے تو یاد رکھے کہ زرداری موجود ہے، پاکستان پیپلز پارٹی موجود ہے اور اس کے کارکن میدان میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو بڑی طاقت سمجھتا ہے، مگر پاکستان کی قیادت اور مسلح افواج جیسا عزم اس کے پاس نہیں۔ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی جرات مصنوعی طور پر پیدا نہیں کی جا سکتی۔

مئی کی کشیدگی کو یاد کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ انہیں بنکر میں جانے کا مشورہ دیا گیا تھا، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رہنما بنکروں میں نہیں بلکہ میدان میں جان دیتے ہیں۔

صدر نے ایک سابق حکمران پر معیشت کو نقصان پہنچانے اور عالمی تعلقات خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اب دوبارہ اپنا مقام بحال کر لیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی ہے۔

صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور اگر مادرِ وطن کو قربانی درکار ہوئی تو قوم ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں