اسلام آباد (ایم این این) — پاکستان نے 20 دیگر ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر اسرائیل کی جانب سے خود ساختہ ریاست سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہارن آف افریقہ، بحیرہ احمر اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ بیان میں فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش سے اس اقدام کو جوڑنے کی بھی سختی سے تردید کی گئی۔
یہ مشترکہ بیان پاکستان، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائیجیریا، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکی، یمن اور او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ کسی ریاست کے حصے کو تسلیم کرنا ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی اور ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہے۔ تمام ممالک نے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ نے الگ بیان میں کہا کہ اسرائیل کا فیصلہ صومالیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کو مسترد کرے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے میں صومالیہ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر معاملہ اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ادھر صومالیہ نے اسرائیلی اقدام کو اپنی خودمختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے جبکہ افریقی یونین نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ پورے براعظم کے امن و استحکام کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ امریکا نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے فیصلے کی پیروی نہیں کرے گا۔


