لاہور (ایم این این) — پاکستان تحریک انصاف نے اتوار کو اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ وہ کمزور پوزیشن سے حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، اور واضح کیا کہ بات چیت اسی وقت ممکن ہوگی جب احتجاجی تحریک کے ذریعے برابری کا ماحول پیدا کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ وہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات پر لاہور میں نئی عوامی تحریک کے آغاز کے لیے موجود ہیں۔
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ آفریدی نے کہا کہ مزاحمت کے بغیر مفاہمت ممکن نہیں، اور اگر برابری تسلیم کیے بغیر مذاکرات کیے گئے تو اپوزیشن کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اپوزیشن کو برابر کا فریق تسلیم نہیں کرتی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کو انتخابی دھاندلی، عمران خان کی رہائی اور ادارہ جاتی مداخلت جیسے معاملات پر بولنے سے روکنا چاہتی ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا آغاز صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب بنیادی اصولوں پر اتفاق ہو، ورنہ پارٹی سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات منوانے کا راستہ اختیار کرے گی۔
میڈیا سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ آفریدی نے لاہور کینٹ میں پارٹی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر جانے کی کوشش کی، تاہم انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور حسن نیازی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلسل تین دن سے روکا جا رہا ہے اور اس کی تحریری وضاحت بھی نہیں دی جا رہی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے بغیر سکیورٹی آنے کی پیشکش بھی کی، مگر پھر بھی اجازت نہیں ملی۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے شور کے باوجود عوام نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ لاہور چھوڑ کر خیبرپختونخوا واپس جائے اور اپنے صوبے کے عوامی مسائل پر توجہ دے۔


