اسلام آباد (ایم این این): جاپانی کمپنی سافٹ بینک گروپ نے منگل کے روز اوپن اے آئی میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری مکمل کر لی، جو نجی شعبے کی تاریخ کی سب سے بڑی فنڈنگ ڈیلز میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت سے سافٹ بینک کے بانی مسایوشی سون کی مصنوعی ذہانت پر طویل المدتی حکمت عملی مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
سافٹ بینک دنیا کے بڑے نجی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری پروگرامز میں سے ایک تشکیل دے رہا ہے، جس کا مرکزی فوکس مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلقہ انفراسٹرکچر، خصوصاً ڈیٹا سینٹرز، پر ہے۔ رواں سال مصنوعی ذہانت عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹس کا مرکزی محور بن چکی ہے، جس کے باعث بڑی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سافٹ بینک اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
مارچ میں سافٹ بینک نے اوپن اے آئی کے منافع بخش ذیلی ادارے میں 40 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری پر اتفاق کیا تھا، جس میں براہ راست سرمایہ کاری کے ساتھ دیگر سرمایہ کاروں کی شمولیت بھی شامل تھی۔
اس معاہدے کے تحت اوپن اے آئی کی ابتدائی قدر تقریباً 300 ارب ڈالر لگائی گئی تھی، تاہم اکتوبر میں مکمل ہونے والی ایک ثانوی شیئر فروخت کے بعد کمپنی کی مالیت بڑھ کر تقریباً 500 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جیسا کہ پچ بک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سافٹ بینک نے گزشتہ ہفتے 22 سے 22.5 ارب ڈالر کی آخری قسط منتقل کی، جبکہ اس سے قبل 10 ارب ڈالر کی فنڈنگ دیگر سرمایہ کاروں کے ذریعے حاصل کی گئی اور 8 ارب ڈالر براہ راست اوپن اے آئی میں لگائے گئے تھے۔
اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی وسیع سرمایہ کاری کا ایک مرکزی ستون بن چکی ہے۔ کمپنی نے اوریکل اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر “اسٹارگیٹ” کے نام سے ایک بڑے اور طویل المدتی ڈیٹا سینٹر منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کا مقصد آئندہ نسل کے اے آئی ماڈلز کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کو سافٹ بینک سمیت کئی بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل ہے۔


