سعودی عرب اور یو اے ای میں کشیدگی، خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں مندی

0
35

دبئی (ایم این این): سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث منگل کے روز خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا اور بیشتر مارکیٹس مندی کا شکار رہیں۔

ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق دبئی کا مرکزی شیئر انڈیکس تقریباً 2 فیصد کم ہوا، جو جون کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی کمی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ابو ظبی کا مرکزی انڈیکس 0.9 فیصد نیچے آیا، جبکہ سعودی عرب کی مارکیٹ میں 0.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ مندی ایسے وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا، جس کے چند گھنٹے بعد سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن میں یو اے ای کی حمایت یافتہ جنوبی علیحدگی پسندوں کو مبینہ غیر ملکی فوجی مدد کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے۔ سعودی عرب نے یو اے ای افواج سے یمن چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا۔

دبئی مارکیٹ میں بڑے حصص سب سے زیادہ دباؤ میں رہے۔ ایماار پراپرٹیز کے شیئرز 3.5 فیصد گر گئے، جبکہ بڑے بینک ایمریٹس این بی ڈی کے حصص میں 1.7 فیصد کمی آئی۔

سعودی عرب میں بھی بینکاری حصص دباؤ کا شکار رہے، جہاں الراجحی بینک کے شیئرز 0.7 فیصد اور سعودی نیشنل بینک کے حصص 1.1 فیصد کم ہوئے۔ آئل کمپنی سعودی آرامکو کے شیئرز میں بھی 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی۔

تیل کی قیمتیں، جو خلیجی مالیاتی منڈیوں کے لیے اہم محرک سمجھی جاتی ہیں، مجموعی طور پر مستحکم رہیں۔ سرمایہ کار روس کی جانب سے یوکرین پر صدر ولادیمیر پوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کے الزام اور یوکرین امن مذاکرات سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیتے رہے تاکہ ممکنہ سپلائی میں خلل کا اندازہ لگایا جا سکے۔

خطے میں قطر کی مارکیٹ میں بھی 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں قطر نیشنل بینک کے شیئرز 0.7 فیصد نیچے آئے۔

اس کے برعکس بحرین کی اسٹاک مارکیٹ میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جو حکومت کی جانب سے ایک روز قبل کیے گئے مالیاتی اصلاحاتی اقدامات کے اثرات کا نتیجہ تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں