پاکستان اور تاجکستان کے درمیان طبی تعلیم و صحت کے شعبے میں تعاون قابلِ تحسین قرار

0
54

اسلام آباد (ایم این این) — تاجکستان کے پہلے نائب وزیر برائے صحت و سماجی تحفظِ آبادی سلام الدین یوسفی نے ایویسینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان طبی سائنس اور طبی تعلیم کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس کی قیادت ایم بی بی ایس ابراڈ پرائیویٹ کنسلٹنسی پرائیویٹ لمیٹڈ کے سی ای او ڈاکٹر محمد عباس مہر کر رہے تھے۔ یہ ادارہ ایویسینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی، دوشنبہ کے لیے بین الاقوامی طلبہ کا سرکاری اور خصوصی داخلہ پارٹنر ہے۔

نائب وزیر نے کہا کہ طبی سائنس اور تعلیم دونوں ممالک کو قریب لانے کا مضبوط ذریعہ ہیں اور نوجوان نسل ادارہ جاتی تعاون میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طبی تعلیم اور میڈیکل ٹورازم میں ادارہ جاتی شراکت داری دونوں حکومتوں کے مشترکہ وژن کا حصہ ہے، جس سے سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کو بھی فروغ ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے پر متفق ہو چکے ہیں۔ سلام الدین یوسفی نے صحت کے شعبے خصوصاً میڈیکل ٹورازم کے فروغ میں میڈیا کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستانی صحافیوں کا یہ دورہ باہمی تعاون کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

نائب وزیر کے مطابق تاجکستان تیزی سے خطے میں طبی تعلیم کا مرکز بن رہا ہے، جہاں جامعات بین الاقوامی معیار کے مطابق تعلیم فراہم کر رہی ہیں اور جدید سہولیات سے لیس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تاجکستان کا طبی شعبہ جدید میڈیکل ٹورازم کی جانب بھی پیش رفت کر رہا ہے، جس میں خصوصی سرجریز اور جدید علاج شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، جو پائیدار دوطرفہ تعلقات کے لیے ناگزیر ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر محمد عباس مہر نے بتایا کہ ایویسینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی میں اس وقت 450 پاکستانی میڈیکل طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جو طبی تعلیم کے تبادلے میں اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان معیاری طبی تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہوئے خطے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر عباس نے مزید بتایا کہ تاجک حکومت نے میڈیکل یونیورسٹیوں کو سال میں دو تعلیمی سیشنز شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے طلبہ کم مدت میں اپنی تعلیم مکمل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کلینیکل علاج کے ساتھ ساتھ تاجکستان میں ویلنیس ٹورازم کے بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ ملک میں تقریباً 45 سینیٹوریمز اور ہیلتھ ریزورٹس قائم ہیں جہاں معدنی غسل، مڈ تھراپی، جڑی بوٹیوں سے علاج، سانس کی بیماریوں، عضلاتی و ہڈیوں کے امراض اور مجموعی بحالی کے خصوصی پروگرام فراہم کیے جاتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں