کراچی (ایم این این) — کراچی کی سٹی کورٹ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پر مبینہ تشدد کے الزام میں متعدد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ اس واقعے کے بعد سامنے آیا جب یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد کے کیس میں وکلا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
اس سے قبل پیر کے روز سٹی کورٹ میں پیشی کے دوران رجب بٹ پر مبینہ حملے کے بعد ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبد الفتاح چانڈیو اور 15 سے 20 دیگر وکلا کو نامزد کیا گیا تھا۔
بعد ازاں وکلا کی ایک بڑی تعداد نے سٹی کورٹ پولیس اسٹیشن کا رخ کیا اور یوٹیوبر اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ وکلا نے سٹی کورٹ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر احتجاج بھی کیا اور ایس ایچ او پر ان کی درخواست درج نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
بدھ کے روز سامنے آنے والی تازہ ایف آئی آر سٹی کورٹ کے ایس ایچ او جہانگیر بھٹو کی مدعیت میں درج کی گئی۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں، جن میں سرکاری اہلکار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنا، دھمکیاں دینا، گالی گلوچ، تشدد، ہنگامہ آرائی اور غیر قانونی اجتماع شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق 30 دسمبر کو دورانِ گشت ایس ایچ او کو اطلاع ملی کہ 40 سے 50 وکلا، جن کی قیادت عبد الفتاح چانڈیو، ایڈووکیٹ عبد الوہاب راجپر اور ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی کر رہے تھے، نے سٹی کورٹ میں قائم عارضی رسالہ پولیس اسٹیشن میں زبردستی داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی اور رجب بٹ اور اس کے وکیل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایس ایچ او کے مطابق جب وہ دوپہر تقریباً 2 بجے پولیس اسٹیشن پہنچے تو وکلا نے سوال کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ کیوں درج کیا گیا ہے اور یوٹیوبر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وضاحت کے باوجود وکلا نے مبینہ طور پر گالی گلوچ شروع کر دی اور بعد ازاں تشدد کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی مداخلت پر وکلا وہاں سے نکل گئے تاہم جاتے ہوئے نعرے بازی کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ مقدمے میں عبد الفتاح چانڈیو، عبد الوہاب راجپر اور ریاض علی سولنگی سمیت 40 سے 50 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی وہی وکیل ہیں جن کے خلاف رجب بٹ کے وکیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سولنگی ہی رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کے مدعی بھی ہیں، جس میں یوٹیوبر پیر کے روز عدالت میں پیش ہوا تھا۔
دوسری جانب رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق نے بھی سولنگی، عبد الفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکلا کے خلاف ہنگامہ آرائی، مسلح ہنگامہ آرائی، تشدد، دھمکیاں دینے اور ڈکیتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رجب بٹ ضمانت کے لیے صبح 9 بجے سٹی کورٹ پہنچا جہاں وکلا نے اس پر حملہ کر کے تشدد کیا اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو زخمی کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حملے کے دوران رجب بٹ سے تین لاکھ روپے نقدی والا بیگ چھین لیا گیا، جو بعد میں واپس تو کر دیا گیا لیکن رقم غائب تھی۔
ایڈووکیٹ سولنگی نے تاہم مؤقف اختیار کیا کہ رجب بٹ نے 20 دسمبر کو عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایک وی لاگ اپ لوڈ کیا جس میں کراچی کے وکلا اور ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جھگڑے کے بعد رجب بٹ کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے کمیٹی روم لے جایا گیا جہاں اس نے وکلا سے معذرت کر لی۔


