پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایک بار پھر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی

0
60

ویب ڈیسک (ایم این این) — پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جمعرات کے روز ایک بار پھر اڈیالہ جیل میں قید بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی جا سکی، جس پر پارٹی رہنماؤں نے پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو بڑا دل دکھانا چاہیے تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 24 مارچ کے حکم کے مطابق عمران خان سے ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ پارٹی کی جانب سے ملاقات کے مطالبے پر جیل کے باہر متعدد دھرنے دیے جا چکے ہیں، جن میں سے ایک کو رواں ہفتے واٹر کینن کے ذریعے منتشر کیا گیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی محمد جمال خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش اور نئے سال کے آغاز کے پیش نظر انہیں امید تھی کہ حکومت بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام قومی ہم آہنگی کے قیام اور سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی جانب پہلا قدم ثابت ہو سکتا تھا، لیکن حکومت نے یہ موقع گنوا دیا۔

بدھ کے روز پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھ کر عمران خان سے ملاقات کے لیے چھ افراد کے نام بھجوائے تھے، جن میں ڈاکٹر امجد علی، صاحبزادہ صبغت اللہ، عثمان بھٹانی، اقبال خٹک، شعیب امیر اعوان اور محمد جمال خان شامل تھے۔

محمد جمال خان نے بتایا کہ وہ دوپہر اڑھائی بجے جیل کے گیٹ پر پہنچے اور عملے کو آگاہ کیا کہ ان کا نام ملاقات کی فہرست میں شامل ہے۔ ان کے مطابق جیل حکام نے انہیں چیک پوسٹ پر انتظار کرنے کا کہا اور بتایا کہ اجازت ملنے پر اطلاع دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ شام 4:40 بجے تک انتظار کرتے رہے، تاہم انہیں بتایا جاتا رہا کہ ملاقات کی اجازت موصول نہیں ہوئی۔

اس سوال پر کہ چھ ناموں کے باوجود صرف دو رہنما جیل کے باہر کیوں نظر آئے، جمال خان نے کہا کہ وہ اور صوبائی اسمبلی کے رکن اقبال خٹک اکٹھے آئے تھے، جبکہ دیگر رہنما ممکنہ طور پر جیل کے کسی اور حصے میں موجود ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ رابطہ نہ ہونے کے باعث وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

محمد جمال خان نے کہا کہ حکومت نے کمزوری دکھائی ہے اور اگر ملاقات کی اجازت دی جاتی تو یہ مذاکرات میں سنجیدگی کا مثبت پیغام ہوتا، جسے قوم خوش آئند قرار دیتی۔

عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور وہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کی صحت پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ یکم دسمبر کو عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حکام ان کی صحت سے متعلق “کوئی ناقابل واپسی حقیقت” چھپا رہے ہیں۔ تاہم 2 دسمبر کو ملاقات کے بعد عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم نے کہا تھا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، البتہ انہوں نے ذہنی اذیت کا شکوہ کیا۔

عظمیٰ خانم نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کو زیادہ تر وقت سیل میں بند رکھا جاتا ہے، باہر نکلنے کا محدود وقت دیا جاتا ہے اور وہ کسی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ملاقات تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی۔

اس سے قبل رواں ماہ اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندے نے خبردار کیا تھا کہ عمران خان کو ایسے حالات میں رکھا جا رہا ہے جو غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اور پاکستانی حکام سے بین الاقوامی اصولوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا تھا۔ پی ٹی آئی نے اس رپورٹ کو عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے توہین آمیز سلوک کا ثبوت قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کہا۔

دوسری جانب، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں اور پارٹی رہنماؤں کا منگل کی رات دیا گیا دھرنا بھی واٹر کینن کے ذریعے منتشر کر دیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں