ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چھٹے روز میں داخل، کرنسی بحران نے عوامی غصہ بھڑکا دیا

0
16


تہران (ایم این این) – ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف جاری احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے، جو دسمبر کے آخر میں ایرانی ریال کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کے بعد شروع ہوا تھا۔

احتجاجی مظاہرے حکومت کی جانب سے اتحاد کی اپیل اور معاشی اصلاحات کے وعدوں کے باوجود جاری ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے معاشی دباؤ کا ذمہ دار ایران کے “دشمنوں” کو قرار دیا ہے اور بدعنوانی کے خاتمے اور معیشت کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو تہران میں دکانداروں کی ہڑتال سے شروع ہونے والے احتجاج کے بعد اب تک کم از کم سات افراد ہلاک اور 44 گرفتار ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں معاشی نوعیت کے یہ مظاہرے اب سیاسی رنگ اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں۔

ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جن پر سب سے زیادہ پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث عالمی مالیاتی نظام تک رسائی محدود اور غیر ملکی اثاثے منجمد ہیں۔ درآمدات پر بڑھتے انحصار نے مہنگائی کو مزید شدید کر دیا ہے۔

اتوار کو ایرانی ریال کی قدر کم ہو کر 1.42 ملین فی ڈالر تک پہنچ گئی، جو صرف چھ ماہ میں 56 فیصد کمی ہے۔ اس گراوٹ کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسطاً 72 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

تہران کے ٹیکسی ڈرائیور مجید ابراہیمی نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکومت صرف ایندھن پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ روزمرہ اشیا کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی قیمتیں چھ گنا تک بڑھ گئی ہیں۔

احتجاج کا دائرہ تیزی سے وسیع ہوا ہے۔ تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ نئے سال کی آمد تک ایران کے 31 میں سے 17 صوبوں تک پھیل گیا، جہاں طلبہ، مزدور اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

ہزاروں افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جبکہ بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ لوردگان میں تین افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ازنا اور کوہدشت میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض مظاہرین نے سرکاری عمارتوں، گورنر ہاؤس، مساجد اور بینکوں پر پتھراؤ کیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ماضی کے برعکس، موجودہ حکومت نے اب تک مکمل کریک ڈاؤن سے گریز کیا ہے اور مظاہرین کے “جائز مطالبات” سننے کا عندیہ دیا ہے۔

حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے عبدالناصر ہمتّی کو نیا گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا ہے، جبکہ تہران یونیورسٹی سمیت دو بڑی جامعات سے کیمپس سکیورٹی سربراہان کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

صدر پزشکیان نے شہید کمانڈر قاسم سلیمانی کی برسی پر خطاب کرتے ہوئے معاشی اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے اور عوام کے معاشی تحفظ کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔

ایران میں اس سے قبل 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج ہوا تھا، جسے سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچلا تھا۔ اقوام متحدہ کی 2024 کی رپورٹ میں اس کارروائی کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا تھا، تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

حالیہ احتجاج پر عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف تشدد کیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے بھی احتجاج کی حمایت میں بیانات دیے گئے ہیں۔

صدر پزشکیان نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

ماخذ: الجزیرہ، ایجنسیاں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں