اسلام آباد (ایم این این) – اسلام آباد میں ایم ٹیگ رجسٹریشن کی آخری تاریخ قریب آتے ہی رجسٹریشن مراکز پر اضافی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ اب تک ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد گاڑیاں ایم ٹیگ کے تحت رجسٹر ہو چکی ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں رجسٹریشن کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ایم ٹیگ ایک پری پیڈ ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹیفیکیشن اسٹیکر ہے جو گاڑی کے شیشے پر لگایا جاتا ہے اور ٹول ادائیگی و نگرانی کے عمل کو خودکار بناتا ہے۔ جب کوئی گاڑی ٹول پلازہ یا مقررہ داخلی مقام سے گزرتی ہے تو سسٹم خود بخود گاڑی کی شناخت کرتا ہے اور متعلقہ رقم بیلنس سے منہا ہو جاتی ہے، جس سے طویل قطاروں اور نقد ادائیگی کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے اور گاڑیوں کو الیکٹرانک نگرانی سے منسلک کرنے کے لیے انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ 15 جنوری کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، ٹریفک مینجمنٹ بہتر کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد ملے گی۔
نفاذ سے قبل باقی رہ جانے والے تقریباً 12 دنوں میں رجسٹریشن کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اب تک 120,447 گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگایا جا چکا ہے، جن میں سے صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3,392 گاڑیاں رجسٹر کی گئیں۔ حکام کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد مزید بڑھے گی۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عرفان میمن نے کہا کہ بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ایم ٹیگ مراکز پر انتظامات مزید بہتر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اضافی عملہ تعینات کیا گیا ہے اور ایم ٹیگز کا مناسب ذخیرہ یقینی بنایا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو اور رجسٹریشن ایک ہی وزٹ میں مکمل ہو سکے۔
ڈی جی عرفان میمن نے خبردار کیا کہ 15 جنوری کے بعد بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے 12 داخلی راستوں پر سیف سٹی نظام کی مدد سے چیکنگ کی جائے گی اور ایم ٹیگ ریڈرز پہلے ہی نصب اور فعال کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ الیکٹرانک سسٹم بغیر درست ایم ٹیگ گاڑیوں کی نشاندہی میں مدد دے گا، جس سے قانون نافذ کرنے کے عمل اور ٹریفک نگرانی میں بہتری آئے گی۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن مراکز پر جاتے وقت مطلوبہ دستاویزات ساتھ لائیں۔ سرکاری ہدایات کے مطابق گاڑی کی رجسٹریشن بک یا کارڈ اور گاڑی کے مالک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ پیش کرنا لازم ہے۔ اصل دستاویزات دکھانا ضروری ہے جبکہ نقول ریکارڈ کے لیے لی جا سکتی ہیں۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ڈیڈ لائن میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ آخری دنوں کا انتظار نہ کریں، تاکہ رش اور طویل قطاروں سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق بروقت رجسٹریشن شہریوں کو آئندہ چیکنگ اور جرمانوں سے محفوظ رکھے گی۔


