پشاور (ایم این این) — خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو واضح کیا کہ ان کا واحد مؤقف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد ہے، چاہے وہ صوبے کے انتظامی امور ہوں یا پارٹی کی اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے قائد عمران خان نے انہیں صوبائی حکومت چلانے کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک کی تیاری کی ہدایت دی ہے، جس پر وہ پوری نیت اور جذبے کے ساتھ عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے منسوب دیگر بیانات محض ذاتی قیاس آرائیاں ہیں۔
کراچی کے مجوزہ دورے کے حوالے سے سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جمہوری اقدار اور اپنے عہدے کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ملاقات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس دعوت پر شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ وہ پہلے اپنے صوبے کے عوام سے ملاقاتیں کریں گے، تاہم اگر کسی قسم کے مسائل یا تحفظات سامنے آئے تو وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کر کے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے مزید بتایا کہ وہ 11 جنوری بروز اتوار شام چار بجے مزارِ قائد پر حاضری دیں گے، جبکہ اس سے قبل کراچی کے دورے کی تاریخ 9 جنوری بتائی گئی تھی۔
ان کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے صوبائی معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی کوئی ہدایت نہیں دی، بلکہ یہ ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر کو سونپی گئی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی تقریب یا ملاقات کا موقع آیا تو وہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ضرور ملاقات کریں گے۔
لاہور کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ کے پی نے حکومت کی نیت پر بھی سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کے آغاز کے لیے مختلف حلقوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے مذاکرات یا احتجاج سے متعلق فیصلہ اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کو سونپ رکھا ہے۔


