فاروق فیصل خان
جب کسی معاشرے میں اس کے ادارے، نظام اور طاقت کے مراکز عوامی فلاح کے بجائے چند مخصوص طبقات کے مفادات کے گرد گھومنے لگیں، جب قانون سب کے لیے برابر نہ رہے، جب محنت کا صلہ کمزور طبقے کو غربت اور مراعات طاقتور طبقے کو عیاشی کی صورت میں ملے تو اسے پولٹیکل سائنس کی اصطلاح یا عرف عام میں
Dysfunctional society
کہا جاتا ہے۔
اصول سیاسیات کی اس تعریف کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو نتیجہ واضح ہے۔اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے دانشور ہونے کی ضرورت ہے نہ فلاسفر۔سب سے نمایاں مثال آمدنی اور مراعات کا شدید عدم توازن ہے۔ ایک طرف قابض ایلیٹ طبقہ ہے جس میں سیاست دان، اعلیٰ سول و ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ اور بڑے کارپوریٹ گروپ شامل ہیں،اب تو بڑے میڈیا ہاوس اور ان سے وابستہ پرائم ٹائم والے بھی اس گروہ کا حصہ بن چکے ہیں ۔ ان کی تنخواہیں لاکھوں روپے ماہانہ ہیں، سرکاری رہائش، بجلی، گیس، پٹرول، گاڑیاں، سیکیورٹی، علاج، تعلیم مفت، بیرونِ ملک دورے اور بعد از ریٹائرمنٹ بھاری پنشنز اور مراعات استحقاق ہیں۔ججوں ،جرنیلوں، سیکرٹریوں,ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کی تنخواہیں کسی سے پوشیدہ نہیں، دوسری طرف عام آدمی ہے جس کی کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے ہے وہ بھی صرف کاغذوں پر۔ ایک ایسا ملک جہاں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے، وہاں حکمران طبقے کی مراعات میں ائے روز اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام عوام کے لیے نہیں بلکہ قابض ایلیٹ کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کے بجائے ذاتی اور گروہی مفادات کے تحفظ کا فورم بن چکی ہے۔ بیوروکریسی عوامی خدمت کے بجائے اختیارات اور مراعات کے گرد گھوم رہی ہے۔ احتساب اور انصاف کا نظام کمزور طبقے تک محدود ہے۔وڈیرے، اور جج کا بیٹا غیر قانونی گاڑیوں میں غریب کو کچلتا رہے اس کو سب ازادی ہے۔میڈیا عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی بجائے حکومت کے مخالفین کی کردار کشی میں مصروف ہے۔
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے جو ریاست کی ذمہ داری ہے کو کاروبار بنا دیا گیا ہے۔جس کے باپ کے پاس پیسے ہیں وہ اپنے بچے کو نجی مہنگے اسکول میں پڑھا لے، جبکہ عام آدمی کے لیے سرکاری اسکول، خستہ حال ہسپتال اور ناکافی سہولیات۔
ایک فنکسنل معاشرے میں ریاست شہری کو تحفظ اور انصاف فراہم کرتی ہے، مگر ہمارے ہاں عام شہری ریاست سے خوفزدہ ہے۔ پولیس، عدالت اور سرکاری دفاتر اس کے لیے سہولت نہیں بلکہ اذیت بن چکے ہیں۔ انصاف مہنگا، سست اور نہ ہونے کے برابر ہے جس وجہ سے عوام کی اکثریت کا ریاست پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے، جو کسی معاشرے کے لیے خطرناک علامت ہے۔
ایلیٹ طبقہ خود کو قربانی سے بالاتر سمجھتا ہے۔ معاشی بحران کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے: ٹیکس، مہنگائی، سبسڈی کے خاتمے کے اثرات غریب آدمی برداشت کر رہا ہے مگر ایلیٹ کی مراعات “قومی سلامتی”، “اداروں کی خودمختاری” یا “استحقاق ” کے نام پر محفوظ ہیں۔ یہ دوہرا معیار معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
نتیجتاً پاکستان ایک ایسا معاشرہ بنتا جا رہا ہے جہاں محنت کی قدر نہیں، انصاف یقینی نہیں، اور ریاستی وسائل منصفانہ طور پر تقسیم نہیں ہو رہے۔
جب تک قابض ایلیٹ کی مراعات، تنخواہوں اور پنشنز پر سنجیدہ نظرِ ثانی نہیں کی جاتی، جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوتا اور جب تک عام آدمی کو باعزت زندگی کے برابر مواقع نہیں ملتے اس وقت تک پاکستان ایک dysfunctional society
ہی ہے۔


