ایمان مزاری اور شوہر کی ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست

0
41

اسلام آباد (ایم این این): وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری حازر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے بدھ کے روز اسلام آباد کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پیکا 2016 کے تحت درج کیا ہے، جس میں دونوں پر لسانی بنیادوں پر انتشار پھیلانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دینے کا الزام ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں مسلح افواج ملوث ہیں۔

سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل ماجوکہ کے روبرو تحریری درخواست پیش کی، جس میں 6 جنوری کو فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ یہ پریس بریفنگ قومی میڈیا پر نشر ہوئی اور اس میں زیرِ سماعت مقدمے سے متعلق امور پر بات کی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پریس کانفرنس کا مواد اسی استغاثہ کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے جو اس وقت عدالت میں زیرِ غور ہے، اس لیے ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کرنا انصاف اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی حق کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

عدالت نے درخواست کی نقل استغاثہ کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کے مؤقف سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے بیانات تعزیراتِ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ سنایا جائے گا۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ شہروز ریاض پر جرح بھی کی گئی، جس میں انہوں نے انکوائری کے آغاز اور سوشل میڈیا مواد اکٹھا کرنے کے طریقہ کار سے متعلق متعدد اعترافات کیے۔

عدالت نے سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی۔
یہ مقدمہ 12 اگست 2025 کو این سی سی آئی اے اسلام آباد میں درج کی گئی شکایت پر قائم کیا گیا تھا۔ شکایت میں ایمان مزاری پر کالعدم تنظیموں سے ہم آہنگ بیانیہ پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ ان کے شوہر پر ان پوسٹس کو ری شیئر کرنے کا الزام لگایا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سیکیورٹی فورسز کو ٹھہرایا اور مسلح افواج کو کالعدم تنظیموں، جن میں بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں، کے خلاف غیر مؤثر ظاہر کیا۔ دونوں ملزمان پر اکتوبر گزشتہ سال فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں