کراچی (ایم این این): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے جمعہ کی شام کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوششیں تیز کر دیں تاکہ پارٹی کی آئندہ ملک گیر احتجاجی تحریک کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے۔
کراچی پریس کلب کے دورے کے بعد وزیراعلیٰ نے انساف ہاؤس جانے اور ضلع جنوبی و ملیر میں عوامی ملاقاتیں کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس سے قبل انہوں نے پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات کی اور سندھ حکومت کی جانب سے دیے گئے استقبال کو سراہا۔
ہوائی اڈے سے وزیراعلیٰ کا قافلہ، بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں کے ہمراہ، تقریباً چھ گھنٹے بعد پریس کلب پہنچا۔
میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے اپنے حالیہ لاہور دورے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی نے زیادہ خوش دلی سے استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جمہوری روایات آج بھی زندہ ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا دورہ کراچی پی ٹی آئی کی سڑکوں پر احتجاجی تحریک کی تیاریوں کے سلسلے میں ہے۔ انہوں نے پنجاب کے دورے کو ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہاں بھی وہ کھانے کے لیے رکے، وہاں بجلی بند کر دی گئی۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ اتوار کے جلسے کے لیے سندھ حکومت سے زبانی اجازت مل چکی ہے، تاہم تحریری اجازت کا ابھی انتظار ہے۔
پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عدالتی آزادی، حقیقی جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، اسی وجہ سے انہیں قید میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں دہشت گردوں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔
سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کی حکمرانی میں انہیں بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی جھلک نظر آتی ہے، جس پر وہ مطمئن ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہونے والے امن جرگے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے 15 نکات پر اتفاق کیا تھا، جن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اگرچہ فوجی آپریشن بذاتِ خود مسئلہ نہیں، لیکن بغیر مشاورت کے کیا گیا آپریشن جبر کے مترادف ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی نے زور دیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے امن قائم نہیں ہو سکتا اور اگر قبائلی عمائدین اور مقامی قیادت کو شراکت دار نہ بنایا گیا تو پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فوجی آپریشن کے بعد امن کی واپسی کی کیا ضمانت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر وزیراعظم دہشت گردی کے معاملے پر یک نکاتی ایجنڈے پر بھی اجلاس بلائیں تو وہ ضرور شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا حل اسی وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اور وفاقی و صوبائی حکومتیں مشترکہ فیصلہ کر کے اس پر عمل درآمد کریں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جمعے کے روز کراچی پہنچ گئے، جہاں وہ پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کو متحرک کرنے کے لیے سندھ کا تین روزہ دورہ کریں گے۔
سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے ایئرپورٹ پر وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ ان کے دفتر سے جاری ویڈیو میں سعید غنی کو سہیل آفریدی کو سندھی ٹوپی اور اجرک پیش کرتے دیکھا گیا۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی کراچی پہنچ چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیوز میں ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں کارکنان کو وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ سہیل آفریدی اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوئے تھے، جہاں ان کی پرواز میں تاخیر بھی ہوئی۔
پی ٹی آئی کا خیر مقدمی کیمپ ہٹانے کا الزام
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان محمد علی بزدار نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے نرسری کے قریب پارٹی ہیڈ آفس کے باہر وزیر اعلیٰ کے استقبال کے لیے لگائے گئے خیمے ہٹا دیے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دفتر کو سیل نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل پی ٹی آئی نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ سندھ پولیس نے کراچی میں انصاف سیکریٹریٹ کو سیل کر دیا اور خیر مقدمی کیمپ کو مسمار کر دیا۔ بزدار کے مطابق وزیر اعلیٰ آفریدی کو ایئرپورٹ سے براہ راست پارٹی ہیڈ آفس لے جایا جانا تھا جہاں وہ کارکنان سے خطاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور سندھ حکومت کے حکام سے بات کے بعد یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ خیمے واپس لگا دیے جائیں گے اور پارٹی کو اجتماع کی اجازت دی جائے گی، تاہم سڑکیں بند نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مزار قائد پر جلسہ
اسلام آباد سے روانگی سے قبل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ وہ پارٹی بانی عمران خان کا “پیغام” سندھ لے کر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین روزہ دورے کے دوران مختلف سرگرمیاں طے ہیں اور عوام سے اسٹریٹ موومنٹ کی حمایت کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کو شام ساڑھے چار بجے مزار قائد پر جلسے سے خطاب کریں گے اور دعویٰ کیا کہ یہ کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔
ابتدا میں سندھ حکام نے ٹریفک دباؤ اور عوامی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے مزار قائد پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا اور متبادل مقام تجویز کرنے کا کہا تھا، تاہم بعد میں سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا کہ جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا خیرمقدم کرے گی اور کسی بھی سیاسی جماعت کی پرامن جدوجہد کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
دورے کا شیڈول
تین روزہ دورے کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پی ٹی آئی قیادت، وکلا، تاجروں اور صحافیوں سے ملاقاتیں کریں گے اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ اس دورے کا مقصد کراچی اور دیگر شہروں میں پی ٹی آئی کی تحریک کو تیز کرنا اور سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے مطابق وزیر اعلیٰ کی آمد پر کارکنان ان کا استقبال کریں گے اور ریلی کی صورت میں انہیں انصاف ہاؤس لے جایا جائے گا، جہاں مختلف اجلاس منعقد ہوں گے۔
کراچی میں ان کے پروگرام میں ایف پی سی سی آئی میں تاجروں سے ملاقات، کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو، اور ضلع جنوبی، کورنگی اور ملیر میں احتجاجی سرگرمیاں شامل ہیں۔ وہ گرفتار پی ٹی آئی کارکنان سے ملاقات بھی کریں گے۔
10 جنوری کو وزیر اعلیٰ آفریدی حیدرآباد روانہ ہوں گے، جہاں ان کا استقبال جامشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ کریں گے۔ حیدرآباد میں احتجاجی مظاہرے، بار اور پریس کلب سے خطاب، صحافیوں، دانشوروں اور کسانوں سے ملاقاتیں اور انصاف ہاؤس میں اجتماع شیڈول ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق خیبر پختونخوا اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان ملاقات بھی 12 جنوری کو متوقع ہے، جس کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔
گزشتہ ماہ لاہور کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد انہوں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو خط لکھ کر اپنے ساتھ کیے گئے سلوک پر شکایت کی تھی۔


