احتجاج کے پھیلاؤ پر ایران میں انٹرنیٹ بند، خامنہ ای کا مظاہرین پر غیر ملکی ایجنڈے کا الزام

0
15

تہران (ایم این این): ایران میں جمعے کے روز حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کیے جانے کے بعد ملک بڑی حد تک دنیا سے کٹ گیا، جبکہ بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لیے فون کالز معطل، پروازیں منسوخ اور مقامی نیوز ویب سائٹس جزوی طور پر ہی اپ ڈیٹ ہوتی رہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور خبردار کیا کہ ایران غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے ٹرمپ کو اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ بھی دیا۔

یہ احتجاج 28 دسمبر کو مہنگائی اور بگڑتی ہوئی معیشت کے خلاف شروع ہوا تھا۔ اگرچہ یہ مظاہرے تین سال قبل ہونے والی بدامنی کے برابر نہیں پہنچے، تاہم ملک بھر میں پھیل چکے ہیں اور درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ خراب معاشی حالات اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے اثرات کے باعث حکام دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق کم از کم 34 مظاہرین اور چار سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تقریباً 2200 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ایرانی انسانی حقوق تنظیم ہینگاؤ کے مطابق جمعے کی نماز کے بعد زاہدان میں نکالے گئے جلوس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

ملک سے باہر موجود اپوزیشن حلقوں نے مزید احتجاج کی اپیل کی۔ سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات نہیں کریں گے اور ان کی حمایت مناسب نہیں سمجھتے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں جلتی ہوئی بسیں، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، میٹرو اسٹیشنز اور بینک دکھائے گئے۔ حکام نے بدامنی کا الزام پیپلز مجاہدین تنظیم پر عائد کیا۔

کاسپین ساحلی شہر رشت میں سرکاری ٹی وی کے رپورٹر نے صورتحال کو جنگی منظر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سڑک پر موجود دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ تہران سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں سینکڑوں افراد کو مارچ کرتے اور قیادت کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا گیا۔

اگرچہ ایران ماضی میں اس سے بڑے احتجاجی سلسلوں پر قابو پا چکا ہے، لیکن اس وقت وہ شدید معاشی بحران اور جوہری پروگرام پر دوبارہ عائد پابندیوں کے باعث بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

حکام ایک طرف معاشی شکایات کو جائز قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پرتشدد مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ عوام کی آواز سنی جانی چاہیے، تاہم غیر ملکی نیٹ ورکس سے جڑے عناصر کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ تخریب کاروں کے سامنے نہیں جھکے گی۔ انہوں نے ٹرمپ پر ہزاروں ایرانیوں کے خون کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا انجام بھی 1979 میں ختم ہونے والی بادشاہت جیسا ہوگا۔

احتجاج جو ابتدا میں معاشی مطالبات تک محدود تھا، اب براہ راست حکومت مخالف نعروں میں تبدیل ہو چکا ہے، جن میں “ڈکٹیٹر مردہ باد” جیسے نعرے شامل ہیں۔

پروازیں منسوخ، رابطے منقطع

ایران میں رات گئے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، جبکہ بیرونِ ملک سے فون کالز بھی ممکن نہ رہیں۔

متعدد فضائی پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ ترک ایئرلائنز نے استنبول سے تہران، تبریز اور مشہد جانے والی تمام پروازیں معطل کر دیں۔ دیگر ایرانی ایئرلائنز کی کئی پروازیں بھی منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ترکی کی ایران کے ساتھ تقریباً 500 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی گزرگاہیں موجود ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں