بیجنگ (ایم این این): چین کے ممتاز مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی جدت اور رسک لینے کے رجحان کے باعث چین امریکا کے ساتھ ٹیکنالوجی کا فرق کم کر سکتا ہے، تاہم جدید چِپ سازی کے آلات کی کمی اب بھی اس شعبے کی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
چین کے نام نہاد “اے آئی ٹائیگر” اسٹارٹ اپس، جن میں منی میکس اور ژیپو اے آئی شامل ہیں، نے اس ہفتے ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں مضبوط آغاز کیا، جو اس شعبے پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ بیجنگ، امریکی ٹیکنالوجی کے متبادل کے طور پر مقامی اے آئی اور چِپ کمپنیوں کو فروغ دینے کے لیے فہرست سازی کا عمل تیز کر رہا ہے۔
اوپن اے آئی کے سابق سینئر محقق اور ٹینسنٹ کے نئے چیف اے آئی سائنٹسٹ یاؤ شون یو نے کہا کہ آئندہ تین سے پانچ برس میں کسی چینی کمپنی کے دنیا کی صفِ اول کی اے آئی کمپنی بننے کے امکانات روشن ہیں، لیکن جدید چِپ سازی کی مشینوں کی عدم دستیابی سب سے بڑی تکنیکی رکاوٹ ہے۔
بیجنگ میں ایک اے آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کو بجلی اور بنیادی ڈھانچے میں برتری حاصل ہے، تاہم پیداواری صلاحیت، خصوصاً لیتھوگرافی مشینوں اور سافٹ ویئر ماحولیاتی نظام میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔
رواں سال ایک رپورٹ کے مطابق چین نے ایک جدید الٹرا وائلٹ لیتھوگرافی مشین کا ابتدائی ماڈل تیار کر لیا ہے، جو مستقبل میں مغربی معیار کی سیمی کنڈکٹر چپس بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم یہ مشین تاحال فعال چپس تیار نہیں کر سکی اور ممکنہ طور پر 2030 سے پہلے ایسا نہ ہو سکے۔
سرمایہ کاری کا فرق برقرار
کانفرنس میں شریک چینی صنعت کے رہنماؤں نے اعتراف کیا کہ امریکا کمپیوٹنگ پاور میں واضح برتری رکھتا ہے، جس کی وجہ بھاری سرمایہ کاری ہے۔
علی بابا کے کیوون بڑے لینگویج ماڈل کے تکنیکی سربراہ لن جون یانگ نے کہا کہ امریکی کمپیوٹر انفراسٹرکچر چین کے مقابلے میں کئی گنا بڑا ہے، جبکہ اوپن اے آئی سمیت دیگر امریکی پلیٹ فارمز آئندہ نسل کی تحقیق میں بھاری سرمایہ لگا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین میں محدود وسائل کے باعث زیادہ تر کمپیوٹنگ صلاحیت روزمرہ ڈیلیوری میں استعمال ہو جاتی ہے۔ وہ سنگھوا یونیورسٹی میں منعقدہ اے جی آئی نیکسٹ فرنٹیئر سمٹ کے پینل مباحثے سے خطاب کر رہے تھے۔
لن کے مطابق محدود وسائل نے چینی محققین کو نئے حل تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے، خاص طور پر الگورتھم اور ہارڈویئر کے مشترکہ ڈیزائن کے ذریعے، جس سے کم لاگت ہارڈویئر پر بڑے اے آئی ماڈلز چلانا ممکن ہو رہا ہے۔
ژیپو اے آئی کے بانی تانگ جی نے، جن کی کمپنی نے آئی پی او کے ذریعے 4.35 ارب ہانگ کانگ ڈالر جمع کیے، کہا کہ نوجوان چینی اے آئی کاروباری افراد میں زیادہ رسک لینے کا رجحان ایک مثبت پیش رفت ہے۔
تانگ کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں باصلاحیت اور رسک لینے والے افراد کو جدت کے لیے وقت اور مواقع ملیں تو حکومت اور ریاست اس شعبے کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔


