ویب ڈیسک (ایم این این): مصر کے نیشنل الیکشنز اتھارٹی نے ہفتے کے روز پارلیمانی انتخابات کی آخری 49 نشستوں کے نتائج کا اعلان کر دیا، جس کے ساتھ تین ماہ سے زائد عرصے پر محیط انتخابی عمل مکمل ہو گیا اور صدر عبدالفتاح السیسی کو آئین میں ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔
ان نشستوں کے نتائج کا اعلان ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے باعث مؤخر ہوا تھا جہاں ابتدائی نتائج کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
الیکشنز اتھارٹی نے کامیاب امیدواروں کی جماعتی وابستگی ظاہر نہیں کی، تاہم یہ نتائج پارلیمنٹ کی مجموعی ساخت میں کسی بڑی تبدیلی کا باعث نہیں بنیں گے، کیونکہ ایوان بدستور صدر السیسی کے حامیوں کے کنٹرول میں رہے گا۔
گزشتہ ہفتے مصر کی اسٹیٹ انفارمیشن سروس نے بتایا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اور آزاد امیدوار 568 منتخب نشستوں میں سے 158 پر کامیاب ہونے کی توقع رکھتے ہیں، جو ایوان کا تقریباً 28 فیصد بنتا ہے۔ صدر کو مزید پانچ فیصد ارکان نامزد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ کی مجموعی نشستیں 596 ہو جاتی ہیں۔
مصری آئین کے مطابق آئینی ترامیم کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔


