گرین لینڈ کا بحران، ڈنمارک کو اسٹریٹجک مخمصے سے دوچار کر رہا ہے

0
35

ویب ڈیسک (ایم این این): امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے آئندہ ہفتے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام سے متوقع مذاکرات سے قبل، ڈنمارک ایک ایسے خطے کا دفاع کر رہا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے آہستہ آہستہ کوپن ہیگن سے دور اور مکمل خودمختاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔

گرین لینڈ کو 1979 میں وسیع خود اختیارات ملے تھے، اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس جزیرے پر قبضے کی دھمکیوں نے یورپی ممالک کو ڈنمارک کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ تاہم اس بحران نے ایک تلخ حقیقت بھی بے نقاب کی ہے کہ ڈنمارک ایک ایسے علاقے کے تحفظ کے لیے سفارتی سرمایہ خرچ کر رہا ہے جس کی اکثریتی آبادی آزادی کی خواہاں ہے، جبکہ گرین لینڈ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت واشنگٹن سے براہِ راست بات چیت کی حامی ہے۔

ماہرین کے مطابق گرین لینڈ یورپ اور شمالی امریکا کے درمیان انتہائی اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے اور امریکی میزائل دفاعی نظام کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ڈنمارک گرین لینڈ سے محروم ہو جاتا ہے تو آرکٹک خطے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

اس معاملے کے اثرات صرف ڈنمارک تک محدود نہیں۔ یورپی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ اگر گرین لینڈ سے دستبرداری اختیار کی گئی تو یہ مثال دیگر طاقتوں کو چھوٹے ممالک کے خلاف علاقائی دعوے کرنے کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام کے لیے خطرہ ہو گا۔

ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریاستوں کی خودمختاری اور سرحدیں بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہیں اور گرین لینڈ کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام کو کرنا ہے۔

ڈنمارک ہر سال گرین لینڈ کو اربوں کرونر کی مالی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ دفاع، پولیس اور عدالتی اخراجات بھی برداشت کرتا ہے۔ اس کے باوجود گرین لینڈ کی معیشت کمزور ہے اور مالی خلا برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم فریڈرکسن کو ایک نازک توازن قائم رکھنا ہو گا، جہاں ایک طرف قومی وقار اور سفارتی ساکھ کا تحفظ ہے، اور دوسری طرف امریکا جیسے اہم اتحادی کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ۔ گرین لینڈ کا مستقبل اب نہ صرف ڈنمارک بلکہ پورے مغربی اتحاد کے لیے ایک فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں