کراچی میں پی ٹی آئی جلسے سے قبل جھڑپیں، میڈیا گاڑیوں پر حملہ، راستے بند

0
42

کراچی (ایم این این): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کے روز مزارِ قائد کے قریب پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے عوام کی حمایت کو سراہا، جس میں سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔

سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کو باغِ جناح میں جلسے کی اجازت دی تھی، تاہم پارٹی کی جانب سے اجازت نامے میں تاخیر کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے پہلے ہی اعلان کیا گیا تھا کہ اجتماع مزارِ قائد کے ایک دروازے کے قریب منعقد کیا جائے گا۔

یہ جلسہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے چار روزہ سندھ دورے کا حصہ تھا، جس کے دوران وہ پارٹی کی عوامی رابطہ مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔

اتوار کی شب خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے سندھ اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی سندھ کے عوام کی جانب سے ملنے والے احترام اور محبت کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

تاہم انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے سندھی ثقافت کی علامتوں، سندھی ٹوپی اور اجرک، کی توہین کی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی کو اپنا مینڈیٹ چرانے، عوام کے حقوق سلب کرنے یا پارٹی قائد عمران خان کو ناحق قید میں رکھنے کی اجازت نہیں دے گی۔

انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ ظلم اور فسطائیت کے خلاف تیار رہیں اور جب بھی عمران خان کی جانب سے کال آئے، کارکن اس پر لبیک کہیں گے۔

جلسے کے دوران وزیراعلیٰ کے پی نے “ہر چوک ڈی چوک ہے” کے نعرے بھی لگائے۔

کراچی میں اتوار کے روز پاکستان تحریکِ انصاف کے مجوزہ جلسے سے قبل صورتحال کشیدہ ہو گئی، جب پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، میڈیا نمائندوں پر حملے کیے گئے اور اہم شاہراہیں بند کر دی گئیں۔

باغِ جناح گراؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش پر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ اسی دوران باغِ جناح کے قریب آج نیوز کی گاڑی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک رپورٹر اور کیمرہ مین زخمی ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین کو نمايش چورنگی کے قریب پولیس گاڑیوں پر پتھراؤ کرتے دیکھا گیا، جبکہ پولیس نے شیلنگ کے ذریعے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری نشاندہی اور گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کیا جائے گا اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

پی ٹی آئی اور سندھ حکومت دونوں نے میڈیا پر حملے کی مذمت کی۔ پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ نے کہا کہ پارٹی میڈیا پر حملے کی سخت مذمت کرتی ہے اور پی ٹی آئی کارکن پرامن ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔

سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر راجہ انصاری نے بھی حملے کو صحافتی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

جلسے کے پیش نظر باغِ جناح اور مزارِ قائد کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ کنٹینرز اور رکاوٹیں لگا کر راستے بند کیے گئے، جس سے شہر میں ٹریفک مسائل پیدا ہوئے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت مزارِ قائد پر جلسہ کرنے کے فیصلے پر ڈٹی رہی۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، جو پارٹی کی عوامی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، مبینہ رکاوٹوں کے باوجود کراچی پہنچے۔ یہ جلسہ وزیراعلیٰ کے چار روزہ سندھ دورے کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے حیدرآباد اور جامشورو کے دورے بھی کیے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے پولیس پر شیلنگ اور کارکنوں کو روکنے کے الزامات عائد کیے، جبکہ سندھ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی طے شدہ سیکیورٹی پلان اور راستوں پر عمل نہیں کر رہی۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ حیدرآباد سے کراچی واپسی پر ان کے قافلے کو مختلف مقامات پر روکا گیا اور انہیں غیر محفوظ راستوں سے گزرنا پڑا، تاہم پولیس حکام نے ان الزامات کی تردید کی۔

تمام تر کشیدگی کے باوجود پی ٹی آئی قیادت نے جلسہ منعقد کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کراچی کے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں