صدر پزشکیان کا قومی اتحاد پر زور، غیر ملکی مداخلت مسترد، عوامی مسائل حل کرنے کا عزم

0
40

تہران (ایم این این): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوام سے اتحاد اور ہوشیاری کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت عوامی مسائل کے حل اور زندگیوں میں بہتری کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، جبکہ ایران کسی بھی غیر ملکی قوت کو قوم کے درمیان انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گا۔

قوم سے خطاب میں صدر پزشکیان نے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی عناصر کے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک کو عدم استحکام سے بچایا جائے گا۔

انہوں نے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر غیر ملکی حمایت یافتہ فسادات اور مسلح دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں۔ صدر نے کہا کہ کوئی بھی شہری افراتفری پیدا نہ کرے اور کسی انسان کو دوسرے انسان کی جان لینے کا حق حاصل نہیں۔

صدر پزشکیان نے عوام پر زور دیا کہ وہ پرتشدد عناصر اور فسادی گروہوں سے خود کو الگ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم تشدد، توڑ پھوڑ اور قتل و غارت کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ملک میں کرپشن کی جڑیں ختم کرنے اور انتظامی و معاشی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔

عالمی امور پر بات کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے امریکا پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امریکی صدر کو وینزویلا، غزہ اور دیگر خطوں میں ہونے والے اقدامات پر شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔

دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ہفتے کی رات سے اتوار کی دوپہر تک ایران میں مجموعی طور پر صورتحال پُرامن رہی۔ ان کے مطابق تہران اور دیگر بڑے شہروں میں کوئی نمایاں بدامنی دیکھنے میں نہیں آئی۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات، دہشت گرد خطرات اور بیرونی مداخلت کے شواہد کے باعث انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز عارضی طور پر معطل کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باشعور ایرانی عوام دشمن عناصر کی سازشوں کو سمجھتے ہیں اور انہوں نے خود کو فسادیوں سے الگ کر لیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق صدر پزشکیان نے پابندیوں سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے لیے بھی قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ معاشی بحران کے باعث احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 109 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اپوزیشن حلقے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

ریاستی میڈیا کے مطابق بعض شہروں میں حالات معمول پر ہیں اور حکومت کے حق میں مظاہرے بھی کیے گئے، جبکہ جاں بحق سیکیورٹی اہلکاروں کی آخری رسومات بھی نشر کی گئیں۔

ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج برداشت کیا جائے گا، مگر تشدد، بیرونی مداخلت اور مسلح کارروائیوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں