افغان سرزمین سے دہشت گردی کے بیان پر کے پی وزیر اعلیٰ پر حکومت کی شدید تنقید

0
12

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی حکومت نے پیر کے روز خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا جس میں انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے الزامات پر ثبوت مانگے تھے۔

اتوار کی شب پی ٹی آئی رہنما عالمگیر خان کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ریاست کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جبکہ دیگر ہمسایہ ممالک بھی افغانستان سے ملحقہ سرحد رکھتے ہیں لیکن وہ ایسی شکایات نہیں کرتے۔ اس بیان کی ویڈیو پی ٹی وی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی افغانستان کے ترجمان کی طرح بات کر رہے ہیں جو کہ قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کی حمایت کے شواہد دیکھ چکی ہے اور اس بات کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور پی ٹی آئی جب بھی بولتی ہے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج پاکستان کی ترقی برداشت نہیں کر سکتے اور اسی لیے ملک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قومی معاملات پر ابہام پیدا کرنا پی ٹی آئی کی مستقل پالیسی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعت دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے سے بھی گریز کرتی ہے اور ایسے بیانات دیتی ہے جو عوام میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ دو درجن سے زائد ممالک افغان سرزمین سے دہشت گردی کی نشاندہی کر چکے ہیں، مگر پی ٹی آئی دانستہ طور پر ابہام پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی نہ فوجی آپریشن چاہتی ہے اور نہ ہی غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی، بلکہ مذاکرات پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے دہشت گردوں کے حوالے سے نرم رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 11 برسوں میں کسی بھی پی ٹی آئی رہنما یا کارکن کو دہشت گرد حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ابہام سے ٹی ٹی پی اور دیگر گروہوں کو خیبر پختونخوا میں کام کرنے اور عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

وزیر مملکت نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کے خلاف بات کرنے یا اس میں کسی قسم کا شک پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے بولنے والا وزیر اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حامیوں کے ساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے گا اور پاکستان میں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سہیل آفریدی کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر شواہد اور فوٹیج پیش کی ہیں جن میں دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، تاہم ملک کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حملے جاری رہے تو پاکستان مناسب جواب دے گا اور افغانستان کو واضح پیغام دیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں